پنجاب حکومت نے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے نفاذ کا فیصلہ صرف 10 روز بعد واپس لیتے ہوئے روایتی فردِ اراضی کے اجرا کا عمل دوبارہ بحال کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے نفاذ کے دوران شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ صوبے میں اراضی کا مکمل ریکارڈ تاحال ڈیجیٹلائز نہیں ہو سکا۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر حکومت نے پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے سابقہ نظام بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔
پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے “نقلِ اراضی ریکارڈ” کے نام سے فرد جاری کرنے کا عمل دوبارہ شروع کر دیا ہے، جس کی فیس 5 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سہولت فی الحال صرف ان مواضعات کے لیے دستیاب ہے جن کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہے، جبکہ نان کمپیوٹرائزڈ اور مینول مواضعات کے لیے تاحال کوئی واضح طریقہ کار یا پالیسی وضع نہیں کی جاسکی۔ اس کے باعث ایسے علاقوں کے شہری اب بھی فردِ اراضی کے حصول میں مشکلات سے دوچار ہیں۔