گھر بنانے کے لیے پیسے تک نہیں تھے ۔۔ کینسر سے لڑنے والی یاسمین راشد نے مشکل وقت میں کس سے قرضہ لے کے اپنا گھر بنایا؟

image

سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات سے متعلق دلچسپ معلومات تو بہت ہیں لیکن کچھ ایسی ہیں جو کہ سب کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو یاسمین راشد سے متعلق دلچسپ معلومات فراہم کریں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور سابق وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کا شمار ان چند خواتین سیاستدانوں میں ہوتا ہے جو کہ اپنے دلیرانہ انداز کی بدولت سب میں مشہور ہو گئیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کا ایک انٹرویو کافی وائرل ہے جس میں اپنے گھر سے متعلق بتا رہی ہیں۔ یہ انٹرویو انہوں نے ٹی سی ایم کو دیا تھا۔

اپنے گھر سے متعلق ڈاکٹر یاسمین راشد بتاتی ہیں کہ میرے شوہر سول کارپوریشن میں کام کرتے تھے، اور یہاں سول کارپوریشن کی کالونی تھی، 1997 میں ہم نے 6 سے 7 ہزار میں یہ پلاٹ خریدا تھا۔

جبکہ اس پلاٹ پر گھر کی تعمیر 1989 میں شروع کی، ہمارے علاوہ یہاں ایک اور گھر تھا، صرف ہم دو گھر والے یہاں تھے باقی یہ پورا علاقہ جنگل تھا۔

وہ بتاتی ہیں کہ جب لوگ مجھ سے پوچھتے تھے کہ تم نے اتنا دور گھر کیوں بنا لیا، تو میں کہتی تھی کہ میرے پاس تو وہی ایک گھر تھا۔ گھر کی تعمیر شروع ہو گئی تھی لیکن اس وقت یاسمین راشد ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی تھیں، جہاں یا تو ایک انسان گھر بنا سکتا ہے، یا زندگی کے دوسرے کاموں پر پیسہ لگا سکتا ہے۔

یہی وجہ تھی کہ آدھا گھر بن چکا تھا، مگر پھر کام رک گیا، جب یاسمین راشد کی سہیلیاں آتیں، دیکھتی اور کہتی کہ یہ جو اسٹرکچر کھڑا کیا ہے، یہ گر جائے گا، جس پر یاسمین راشد نے کہا کہ پیسے ہی نہیں ہیں، کہاں سے پورا کروں۔

میری سہیلیوں نے کہا کہ ہم تمہیں قرضہ دیں گے، ڈاکٹر جویریہ نے مجھے 50 ہزار روپے دیے، میری سہیلیوں نے مجھے قرضہ دیا اور میں گھر کا حصہ تیار کیا۔ اگرچہ میں اس وقت گائناکالوجسٹ تھی اور کما رہی تھی، مگر اس وقت بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

بچوں کی تعلیمی اخراجات میں پھر بیلنس کرنا پڑتا تھا کہ گھر مکمل کرنا ہے یا بچوں کو پڑھانا ہے۔ یہاں تک کے بیٹی کی شادی ہو رہی تھی اور ہمارا گھر تیار نہیں تھا، اوپر کا حصہ تیار تھا لیکن نیچے کا حصہ تیار نہیں تھا۔

ڈاکٹر یاسمین کا کہنا تھا کہ ہم جیسے مڈل کلاس لوگ یا بچوں کی شادی کرا سکتے ہیں یا پھر گھر بنا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کے انداز بیان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ آج بھی اپنے ماضی کو بھولی نہیں ہیں اور نہ ہی ان سہیلیوں کو جنہوں نے ان کے مشکل وقت میں ان کی مدد کی۔

جبکہ زمین سے متعلق ڈاکٹر یاسمین کہتی ہیں کہ میرے پاس 108 کنال کی زمین ہے، یہ زمین چکوال میں 2007 میں 6 لاکھ روپے کی خریدی تھی۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے ساتھ ہی اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ میرا کلینیک میں کرائے پر ہے، میرے ٹینور میں میری مکان دار نے نوٹس دے دیا تھا کہ کرایہ بڑھاؤ۔ جس میں نے کہا کہ میرا کلینیک چل نہیں رہا ہے اور آپ کرایہ بڑھا رہی ہیں، جس پر مکان دار کا کہنا تھا کہ مہنگائی بڑی ہو گئی ہے، پھر مجھے کرایہ بڑھانا پڑا۔

ڈاکٹر یاسمین بتاتی ہیں کہ میں نے جن دوستوں سے قرضہ لیا تھا، ان سب کو قرضہ واپس کیا، ساتھ ہی سہیلیوں کی تعریف بھی کر دی کہا کہ میری دوستوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US