ایران میں حکام کا مظاہرین کی لاشیں واپس کرنے کے لیے’بڑی رقم کا مطالبہ‘: ’ہم اپنے پیارے کی میت لیے بغیر واپس جا رہے ہیں‘

بی بی سی فارسی کو ایسی رپورٹس بھی موصول ہوئی ہیں، جس میں تہران میں حکام بہشت زہرا مردہ خانے میں لواحقین سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ’اگر وہ یہ کہیں کہ اُن کا بچہ پیرا ملٹری فورس کا رُکن ہے اور وہ مظاہرین کے ہاتھوں مارا گیا ہے تو پھر بغیر کسی رقم کے لاش ان کے حوالے کر دی جائے گی۔‘
ایران
Reuters

ایران میں مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے اہلخانہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حکام ان کے پیاروں کی لاشیں واپس کرنے کے لیے بڑی رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعدد ذرائع نے بی بی سی فارسی کو بتایا ہے کہ لاشیں مردہ خانوں اور ہسپتالوں میں رکھی گئی ہیں اور جب تک لواحقین رقم نہیں دیتے، سکیورٹی فورسز انھیں لواحقین کے حوالے نہیں کریں گے۔

ملک بھر میں دو ہفتوں سے زائد عرصے سے جاری احتجاج کے دوران کم از کم 2435 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

شمالی شہر رشت میں ایک خاندان نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے اُن کے عزیز کی لاش حوالے کرنے کے لیے 70 کروڑ تومان (پانچ ہزار امریکی ڈالرز) کا مطالبہ کیا۔

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کے عزیز کی لاش پورسینا ہسپتال کے مردہ خانے میں کم از کم دیگر 70 میتوں کے ساتھ موجود ہے۔

دریں اثنا تہران میں ایک کرد تعمیراتی کارکن کی لاش وصول کرنے ان کا خاندان مقامی ہسپتال میں گیا تو اُنھیں بتایا گیا کہ لاش وصول کرنے کے لیے انھیں ایک ارب تومان (سات ہزار امریکی ڈالرز) ادا کرنا ہوں گے۔

خاندان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ یہ رقم ادا کرنے کے قابل نہیں، لہذا اپنے پیارے کی میت لیے بغیر ہسپتال سے واپس جا رہے ہیں۔

ایران میں ایک تعمیراتی کارکن ماہانہ لگ بھگ 100 ڈالرز کماتا ہے۔

بعض کیسز میں مقامی ہسپتالوں کے عملے کی جانب سے مرنے والوں کے لواحقین کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ جلداز جلد اپنے پیاروں کی لاشیں لے جائیں، اس سے پہلے کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار وہاں آ کر اُن سے رقم کا مطالبہ کریں۔

بی بی سی فارسی کو ایک خاتون کے بارے میں معلوم ہوا ہے، جن کا نام سکیورٹی وجوہات کی بنا پر مخفی رکھا جا رہا ہے۔ خاتون کو مظاہروں کے دوران اپنے شوہر کی ہلاکت کا علم نہیں تھا۔ اُنھیں نو جنوری کو ہسپتال کے عملے کی جانب سے اس بابت بتایا گیا۔

ہسپتال کے عملے نے خاتون کو بتایا کہ وہ فوری طور پر ہسپتال پہنچیں اور اپنے شوہر کی میت لے جائیں، اس سے پہلے کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار وہاں پہنچ کر اُن سے رقم کا مطالبہ کریں۔

بی بی سی فارسی کو یہ معلومات لندن میں مقیم اس خاتون کے ایک عزیز نے بتائی ہیں، جن کی مذکورہ خاتون سے اس سارے معاملے میں تفصیلی بات چیت ہوئی تھی۔

بعدازاں یہ خاتون اپنے دو بچوں کے ہمراہ ہسپتال پہنچیں اور اپنے شوہر کی میت کی شناخت کی۔ اُنھوں نے لاش کو پک اپ ٹرک میں رکھا اور سات گھنٹے کی مسافت کے بعد مغربی ایران میں اپنے آبائی علاقے میں پہنچے، جہاں تدفین کی گئی۔

اُنھوں نے لندن میں مقیم اپنے عزیز کو بتایا کہ ’میں پک اپ ٹرک کے پچھلے حصے میں میت کے ساتھ موجود تھی اور سات گھنٹے کے سفر کے دوران روتی رہی، بچے اگلی نشستوں پر بیٹھے تھے۔‘

بی بی سی فارسی کو ایسی رپورٹس بھی موصول ہوئی ہیں، جس میں تہران میں حکام بہشت زہرا مردہ خانے میں لواحقین سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ’اگر وہ یہ کہیں کہ اُن کا بچہ پیرا ملٹری فورس کا رُکن ہے اور وہ مظاہرین کے ہاتھوں مارا گیا تو پھر بغیر کسی رقم کے لاش ان کے حوالے کر دی جائے گی۔‘

خاندان کے ایک رُکن نے بی بی سی کو ایک پیغام میں بتایا کہ ’ہمیں حکومت کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلی میں شرکت کا کہا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ آپ یہ کہیں کہ یہ میت ایک شہید کی ہے، جسے مظاہرین نے مار دیا لیکن ہم نے اُن کی بات نہیں مانی۔ ‘

تہران میں ایک اور کیس میں ایک ذریعے نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ متعدد خاندان مردہ خانے کے باہر پہنچ گئے تاکہ وہ جلد از جلد اپنے پیاروں کی میتیں وہاں سے لے جائیں کیونکہ اُنھیں یہ خدشہ تھا کہ حکام ان میتوں کو وہاں سے لے نہ جائیں۔

ایک ذریعے نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ متعدد خاندانوں نے اس خدشے کے پیش نظر کے حکام ان کے پیاروں کی لاشوں کو اپنے پاس رکھیں گے یا اُنھیں بتائے بغیر ان کی تدفین کر دی جائے گی، مردہ خانے کا دروازہ توڑ کر میتوں کو ایمبولینسز سے نکال کر وہاں سے لے گئے۔

اہلخانہ نے ہسپتال کے احاطے میں ان میتوں کے گرد سکیورٹی حصار قائم کر لیا تاکہ کوئی ان میتوں کو اُن سے چھین کر نہ لے جائیں۔ اس دوران وہ نجی ایمبولینسیز کا بندوبست کرتے رہے تاکہ جلداز جلد میتوں کو وہاں سے نکال لیا جائے۔

انٹرنیٹ اور مواصلاتی رابطوں کی بندش کی وجہ سے اصل زمینی صورتحال سامنے لانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کو ایران تک براہ راست رسائی حاصل نہیں جبکہ عالمی میڈیا کو بھی ایران میں کام کرنے کی اجازت نہیں۔

ایرانی حکومت نے بی بی سی کو بھی ان مظاہروں کی کوریج اور زمینی صورتحال کی رپورٹنگ سے روک رکھا ہے۔

تصویر
Getty Images

قطار میں پڑی لاشیں اور خون آلود فرش

تہران میں ایک مردہ خانے سے پریشان کن نئی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں، جن میں لاشوں کے انبار، خون آلود فرش اور مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد اپنے پیاروں کی تلاش میں لوگوں کا ہجوم دیکھا جا سکتا ہے۔

بی بی سی ویریفائی اور بی بی سی فارسی کی طرف سے تجزیہ کی گئی ویڈیوز انتہائی تکلیف دہ ہیں اور یہ 28 دسمبر کو بدامنی شروع ہونے کے بعد سے بدترین حکومتی کریک ڈاؤن کی ہولناک کہانیاں بیان کر رہی ہیں۔

ان ویڈیوز کے فارنزک معائنے سے پتہ چلتا ہے کہ مردہ خانے کے احاطے میں لگ بھگ 200 لاشیں موجود ہیں جبکہ خون میں لت پت بہت سے زخمی موجود ہیں۔ ایک مقتول کی شناخت 16 سالہ لڑکے کے طور پر ہوئی ہے۔

تصدیق شدہ ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت مخالف مظاہرین 68 سے زائد قصبوں اور شہروں میں پھیل چکے ہیں۔ حالانکہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ گذشتہ ہفتے حکومت کی طرف سے انٹرنیٹ پر لگائی گئی پابندی نے نو کروڑ ایرانیوں کا بیرونی دُنیا سے رابطہ مکمل طور پر منقطع کر دیا تھا۔

ان مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں تاہم امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایجنسی ’ہرانا‘ کے مطابق اب تک 2500 سے زائد افراد ان مظاہروں کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایک ایرانی اہلکار نے خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کو بتایا کہ ان مظاہروں میں دو ہزار افراد مارے گئے ہیں لیکن ساتھ ہی اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’دہشت گرد‘ اس کے ذمے دار ہیں۔

بی بی سی ویریفائی اور بی بی سی فارسی اس مردہ خانے سے سامنے آنے والی تصاویر کے بارے میں پہلے رپورٹ کر چکے ہیں لیکن ہم یہ نئی ویڈیوز انتہائی تکلیف دہ ہونے کی وجہ سے نہیں دکھا رہے۔

یہ ویڈیو امریکہ میں مقیم ایرانی سوشل میڈیا انفلوئنسر واحد نے منگل کو پوسٹ کی تھی، جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ یہ ویڈیو 10 جنوری کو جنوبی تہران کے کہریزک فارنزک میڈیکل سینٹر کے اندر کی ہیں۔

واحد نے بتایا کہ یہ ویڈیوز ایک ایسے شخص نے بنائی ہیں جس نے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر کا سفر کیا تھا۔ اس شخص نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ اس نے فوٹیج اپ لوڈ کرنے کے لیے پڑوسی ممالک کے موبائل نیٹ ورکس کا استعمال کیا۔

واحد ملک کے اندر ہونے والے واقعات کو دستاویزی شکل دینے والی درجنوں ویڈیوز باہر کی دنیا کے لیے پوسٹ کر رہے ہیں۔

ان ویڈیوز میں سے دو میں فرش پر قطار میں لاشیں پڑی ہیں اور ایک شخص اس سڑک سے گزر رہا ہے، جو وسیع مردہ خانہ کمپلیکس کے شمالی حصے سے گزرتی ہے۔

بعد میں وہ ایک صحن اور ایک بڑے گودام کے اندر سے گزرتا ہے اور ملحقہ کمروں کے اندر اور باہر بڑی تعداد میں باڈی بیگز موجود ہیں۔ اس دوران اُنھیں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ یہ ’قیامت کا منظر‘ ہے۔

تصویر
BBC

ویڈیو بنانے والے شخص کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’آج ہفتہ ہے، احتجاج کی کال کے ایک دن بعد کا منظر۔‘

وہ گذشتہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب سابق ولی عہد رضا پہلوی کی جانب سے لوگوں کو سڑکوں پر آنے کی کال دینے کا ذکر کر رہے تھے۔

مزید دو ویڈیو کلپس میں مردہ خانے سے لی گئی تصاویر ہیں، جس میں کئی لاشیں زپ اپ بیگ میں موجود ہیں، جن میں سے ایک جلی ہوئی لگ رہی ہے۔

بی بی سی ویریفائی اور بی بی سی فارسی نے پانچ منٹ کی ویڈیو میں کم از کم 186 لاشیں اور 16 منٹ کے کلپ میں کم از کم 178 لاشیں گنیں۔

دونوں ویڈیوز میں ممکنہ طور پر کچھ ایک جیسے جسم دکھائے گئے ہیں لہذا ہم حتمی طور پر اعداد و شمار نہیں بتا سکتے لیکن حقیقی اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

ویڈیوز میں ایک ساتھ ترمیم کی گئی کم از کم نو الگ الگ ویڈیوز شامل ہیں۔ ویڈیوز میں سائے کی پوزیشن سے پتہ چلتا ہے کہ ان حصوں کو پورے دن میں مختلف اوقات میں فلمایا گیا تھا۔ ہم نے گوگل پر سیٹلائٹ امیجز کے ذریعے کمپلیکس سے قابل شناخت خصوصیات کو ملایا، بشمول علیحدہ عمارتیں، گودام کی چھت اور باڑ۔

تصویر
BBC

کئی لاشوں پر زخموں کے نشانات ہیں۔ دو لاشیں خون میں لت پت دکھائی دے رہی ہیں اور دوسری کے پیٹ پر گہرے زخم دکھائی دے رہے ہیں۔

کچھ باڈی بیگز کے ساتھ کاغذ یا سفید مارکر کے ذریعے تفصیلات لکھی ہوئی ہیں، جن میں نام، شناختی نمبر، تاریخ پیدائش اور موت کی تفصیلات درج ہیں۔ کچھ میں والد کا نام جبکہ دو باڈی بیگز ایسے بھی ہیں، جن پر نامعلوم درج ہے۔

دو باڈی بیگز پر موت کی تاریخ نو جنوری بتائی گئی ہے۔ ایک اور باڈی بیگ پر ایرانی کیلنڈر کی تاریخ درج ہے جبکہ مرنے والے کی عمر 16 سال لکھی ہے۔

16 منٹ کے کلپ میں ایک لمحے کے دوران یہ شخص فون اپنے دائیں طرف ایک عمارت کی طرف کرتا ہے اور ایک آواز سنائی دیتی ہے کہ ’اندر بہت سی لاشیں ہیں۔۔۔ اندر جانا ممکن نہیں۔۔۔ یہ خواتین کا علاقہ ہے۔‘

مذہبی وجوہات کی بنا پر ایرانی مردہ خانوں میں مرد اور خواتین کی لاشوں کو الگ رکھا جاتا ہے۔

اس مقام پر بہت سی ایمبولینس، میت گاڑیاں اور دیگر وینز دیکھی جا سکتی ہیں۔ سرکاری اہلکار قطار در قطار موجود ان لاشوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور قریب کھڑے لواحقین سے بات کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

یہ واضح نہیں کہ حکومت مخالف مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں مرکز میں کیوں منتقل کی گئی ہوں گی، لیکن بی بی سی فارسی کو فراہم کیے گئے عینی شاہدین کے بیانات بتاتے ہیں کہ احتجاج میں ہلاکتوں کی تعداد سے ہسپتال بھرے ہوئے ہیں۔

’ہرانا‘ جو بدامنی شروع ہونے کے بعد سے ہلاکتوں کی تعداد بتا رہا ہے، نے بتایا کہ اب تک 2403 مظاہرین، 147 حکومت سے وابستہ افراد، نو عام شہری اور 12 بچے مارے جا چکے ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US