عمران خان نے اپنے رکن اسمبلی کے بجائے محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر کیوں بنایا اور اس سے پی ٹی آئی کو فائدہ ہو گا؟

محمود خان اچکزئی کےنوٹیفکیشن پر جہاں پی ٹی آئی کے رہنما اُنھیں مبارکباد دے رہے ہیں تو وہیں بعض مبصرین تحریک انصاف کے رکن اسمبلی کے بجائے محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر سوال اُٹھا رہے ہیں۔ اس فیصلے کا پی ٹی آئی کو کتنا فائدہ ہو گا؟
محمود اچکزئی
Getty Images

سپیکر قومی اسمبلی کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے محمود خان اچکزئی کو قائدِ حزبِ اختلاف بنانےکا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا نوٹیفکیشن قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے طریق کار 2007 کے قاعدہ 39 کے تحت جاری کیا گیا۔

تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان اور ارکانِ قومی اسمبلی جنید اکبر، سردار محمد لطیف خان کھوسہ سمیت دیگر نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے نوٹیفکیشن وصول کیا۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گذشتہ برس اگست میں نو مئی کے کیسز میں انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں سے سزائیں پانے والے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے نو اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دے دیا تھا، جن میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان بھی شامل تھے۔

اگست کے بعد سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ خالی تھا اور اس حوالے سے حکومت کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا تھا۔

محمود خان اچکزئی کےنوٹیفکیشن پر جہاں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اُنھیں مبارکباد دے رہے ہیں تو وہیں بعض مبصرین پاکستان تحریک انصاف کے 70 کے لگ بھگ ارکان اسمبلی کے باوجود محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر سوال بھی اُٹھا رہے ہیں۔

لیکن اس سے یہ سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ عمران خان نے محمود خان اچکزئی کا ہی انتخاب کیوں کیا؟ اس فیصلے کا پی ٹی آئی کو کتنا فائدہ ہو گا؟ کیا یہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین کسی مفاہمت کا نتیجہ ہے؟ یہ جاننے کے لیے ہم نے سیاسی مبصرین سے بات کی ہے۔

کیا محمود اچکزئی کی تقرری سے پی ٹی آئی کو فائدہ ہو گا؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کے مطابق محمود اچکزئی کا تعلق تحریک انصاف سے نہیں لیکن عمران خان نے ہی اُنھیں اپوزیشن لیڈر بنانے کا فیصلہ کیا۔

اُن کے بقول ایک وقت میں عمران خان، محمود خان اچکزئی کے حوالے سے بہت سخت موقف رکھتے تھے لیکن اب اُن ہی عمران خان نے اُنھیں اپوزیشن لیڈر بنایا۔

مظہر عباس کے بقول محمود اچکزئی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد’تحریک تحفظ آئینِ پاکستان‘ کے بھی سربراہ ہیں اور اُن کا شمار ملک کے قد آور سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ ’لہذا اس سے تحریک انصاف کو تو فائدہ ہو گا ہی بلکہ اس سے حکومت کی ساکھ بھی بہتر ہو گی۔‘

واضح رہے کہ سنہ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے اسلام آباد میں احتجاج اور دھرنوں کے دوران محمود اچکزئی نے اُس وقت کی نواز شریف حکومت کا ساتھ دیا تھا، جس پر عمران خان نے محمود اچکزئی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

محمود اچکزئی، عمران خان کی حکومت کے خلاف بننے والے پاکستان ڈیمو کریٹک الائنس (پی ڈی ایم) کا بھی حصہ تھے اور عمران خان پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔

لیکن سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی، مظہر عباس سے اتفاق نہیں کرتے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان غنی کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی کی تقرری سے تحریک انصاف کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

اُن کے بقول محمود اچکزئی بھی عمران خان کی طرح اسٹیبلشمنٹ کے معاملے پر جارحانہ موقف رکھتے ہیں اور بظاہر پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی کے ارکان ایک متوازن پالیسی کے خواہاں ہیں۔

سلمان غنی کا دعویٰ ہے کہ تحریکِ انصاف کے ارکان نے نیم دلی کے ساتھ محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنایا۔

’محمود اچکزئی کے خیالات عمران خان سے ملتے ہیں، لہذا اُن کے اپوزیشن لیڈر بننے سے تحریک انصاف کے لیے مشکلات مزید بڑھیں گی۔‘

سلمان غنی کہتے ہیں کہ محمود اچکزئی، افغانستان اور خیبر پختونخوا کے معاملات پر ایک خاص موقف رکھتے ہیں اور جب وہ ایوان میں اس پر بات کریں گے تو اس سے تناؤ بڑھے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مثال ہے، جس میں پارٹی لیڈر نے اپنی پارٹی کے ارکان اسمبلی کو نظرانداز کر کے ایک دوسری پارٹی کے رُکن اسمبلی کو اپوزیشن لیڈر بنا دیا۔

تصویر
Getty Images
محمود اچکزئی کے عمران خان کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہیں لیکن نواز شریف حکومت کا ساتھ دینے پر دونوں کے درمیان اختلافات نے جنم لیا تھا

اپوزیشن لیڈر کی تقرری میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟

مظہر عباس کہتے ہیں کہ پہلے سپیکر قومی اسمبلی نے یہ کہا کہ عمر ایوب کی نااہلی کا کیس زیر التوا ہے اور پھر اُنھوں نے کچھ تکنیکی بنیادوں پر اس معاملے میں دیر کی لیکن سب کچھ واضح ہو جانے کے باوجود اس معاملے میں غیر ضروری تاخیر ہوئی۔

اُن کے بقول ’یہ تقرری آج سے ایک ماہ پہلے بھی ہو سکتی تھی۔ بظاہر اس میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ پی ٹی آئی کے 70 سے زائد ارکان اپنے دستخطوں کے ساتھ محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے سپیکر کو لکھ کر دے چکے تھے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ اس تاخیر کی وجہ سے خوامخوہ ایک سیاسی کشیدگی کا ماحول بنا لیکن اب اگلے مرحلے میں اعلی عہدوں پر تعیناتیوں کے لیے کم از کم حکومت اور اپوزیشن کے مابین رابطوں کا سلسلہ شروع ہو گا اور سیاسی تلخیوں میں بھی کچھ کمی کی توقع کی جا سکتی ہے۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر اپنے عہدے کی میعاد پوری کر چکے ہیں، لہذا اب حکومت اور اپوزیشناس معاملے پر مشاورت کے بعد اس اہم عہدے کے لیے تعیناتی کریں گے۔

سلمان غنی کے بقول سپیکر قومی اسمبلی نے عمر ایوب کے کیس کی وجہ سے اپوزیشن لیڈر کی تقرری میں تاخیر کی تھی لیکن یہ معاملہ حل ہونے کے بعد تقرری میں تاخیر کی کوئی وجہ نہیں تھی۔

اُن کے بقول ایک منتخب حکومت، ایوان میں اپوزیشن لیڈر نہ ہونے کی زیادہ متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کی وجہ سے اس کی ساکھ پر بھی سوال اُٹھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ حکومت نہیں چاہتی تھی کہ اپوزیشن لیڈر ایوان میں جارحانہ تقاریر کرے، اس لیے اس معاملے میں تاخیر ہوئی۔

سلمان غنی نے دعویٰ کیا کہ یہ تقرری بھی مشروط ہے۔ اُنھوں نے سپیکر قومی اسمبلی سے اپنی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’سپیکر ایاز صادق نے کہا ہے کہ اگر محمود اچکزئی نے فوج یا ریاستی اداروں کے خلاف سخت تقاریر کرنے کی کوشش کی تو انھیں بولنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔‘

تصویر
Getty Images

کیا محمود اچکزئی کی تقرری حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کسی مفاہمت کا نتیجہ ہے؟

کیا محمود اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری حکومت اور اپوزیشن کے مابین کسی مفاہمت کا نتیجہ ہے یا کوئی برف پگھلی؟ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مظہر عباس کا کہنا تھا کہ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ برف پگھلی لیکن یہ ضرور ہے کہ اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن دونوں نے ذمے داری کا مظاہرہ کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ محمود اچکزئی کس طرح پوری اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلتے ہیں اور وہ عمران خان کی توقعات پر کس حد تک پورا اُترتے ہیں۔

مظہر عباس کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی کا پہلا امتحان آٹھ فروری کو دی جانے والی احتجاج کی کال ہو گی اور بطور اپوزیشن لیڈر عمران خان اُن سے توقع کریں گے کہ وہ اس احتجاج کو کامیاب بنانے کے لیے کام کریں۔

’وہ تحریک تحفظ آئین کے بھی سربراہ ہیں اور اپوزیشن نے آٹھ فروری کو ملک گیر احتجاج کی کال دی ہوئی، تو دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا وہ اس حوالے سے کیا حکمت عملی تیار کرتے ہیں۔‘

مظہر عباس کہتے ہیں کہ چیف الیکشن کمیشن، چیئرمین نیب اور اس نوعیت کی اعلی تقرریوں کے لیے حکومت کے لیے اپوزیشن لیڈر سے مشاورت لازمی ہے۔ کیونکہ آنے والے دنوں میں کچھ تقرریاں کی جانی ہیں تو حکومت کے لیے بھی اپوزیشن لیڈر کی تقرری ضروری تھی۔

اُن کے بقول جب حکومت اور اپوزیشن قومی معاملات پر ایک ساتھ بیٹھیں گے تو اس سے سیاسی تلخی بھی کم ہو گی۔

سلمان غنی بھی مظہر عباس سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ کسی مفاہمت کا نتیجہ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اگر پاکستان کی سیاست میں اس وقت کوئی مفاہمت ہونی ہے تو وہ جیل میں بیٹھے عمران خان اور ملک کی اسٹیبلشمنٹ کے مابین ہونی ہے۔

’اُمید ہے کہ وہ عمران خان کا اعتماد نہیں توڑیں گے‘

محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے معاملے پر پارٹی میں اختلافات کے تاثر کو رد کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف گوہر خان نے کہا کہ اس حوالے سے پارٹی میں کوئی دو رائے نہیں۔

قومی اسمبلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ ’محمود اچکزئی کے فارم پر ہم سب نے سائن کیے، اس حوالے سے پارٹی کے اندر کوئی دو رائے نہیں۔‘

رہنما تحریک انصاف ذلفی بخاری نے ایکس پر لکھا کہ ’میں محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بننے پر مبادکباد پیش کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ عمران خان کے اعتماد کو نہیں توڑیں گے۔‘

قومی اسمبلی میں سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے ایکس پر لکھا کہ اپوزیشن لیڈر بننا اعزاز کی بات ہے اور مجھے اُمید ہے کہ وہ بہترین انداز میں اپنی ذمے داریاں پوری کریں گے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ 77 سالہ محمود خان اچکزئی کئی دہائیوں سے پاکستان کی سیاست میں سرگرم ہیں۔

بلوچستان کے علاقے قلعہ عبداللہ میں پیدا ہونے والے محمود اچکزئی متعدد بار رُکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں جبکہ ملک میں چلنے والی متعدد تحریکوں میں بھی پیش پیش رہے ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US