جل پری کی کہانیاں بچپن میں تو آپ نے یقیناً پڑھی ہی ہوں گی، کہ خوبصورت جل پری جو کہ آدھی عورت اور آدھی مچھلی ہوتی ہے، وہ جب پانی سے باہر آتی تھی تو انسان بن جاتی تھی اور جب پانی میں جاتی تو دوبارہ جل پری بن جاتی۔۔ اسی طرح کی افسانوی کہانیاں، فلمیں اور اب تو باربی کی کارٹون فلمز دنیا بھر میں مقبول اور معروف ہیں ۔ لوگ جل پریوں کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ تخیلاتی کرداران کے خیال میں کہیں نہ کہیں اس دنیا میں موجود ہے۔
لوگ تو اس بات کو سوچتے ہی رہ جاتے ہیں لیکن امریکہ میں ایک ایسی خفیہ کمیونٹی ہے جو حقیقت میں جل پریاں بن کر زندگی گزارتی ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ لوگ انسان ہی ہیں لیکن اپنی ٹانگوں پر مچھلی جیسا پلاسٹک کا لباس پہن کر اپنے نچلے دھڑ کو مچھلیوں جیسا بنائے رکھتے ہیں۔
32 سالہ کیٹلین بھی اس کمیونٹی کا حصہ ہے۔ کیٹلین بچپن ہی سے جل پری بننا چاہتی تھی ۔ بالآخر بڑی ہو کر کیٹلین نے اپنی اس خواہش کی تکمیل کر ڈالی۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ کی یہ خفیہ کمیونٹی خود کومرفوک کہلاتی ہے۔ یہ نام اس تخیلاتی اور افسانوی مخلوق کو دیا جاتا ہے جو سمندر میں رہتی ہے اور اس کا اوپری دھڑ انسانوں جیسا اور نچلا مچھلی جیسا ہوتا ہے اور جسے عرفِ عام میں جل پری کہا جاتا ہے۔ کیٹلین اپنے انسٹاگرام اکاﺅنٹ پر اپنی ”جل پری“ کے روپ میں تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کرتی رہتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ”ایک بار جب میں جل پری بن کر پانی میں اترتی ہوں اور اپنی دم کے سہارے تیرنا شروع کرتی ہوں تو میری تمام پریشانیاں غائب ہو جاتی ہے۔ مجھے ایسے لگتا ہے جیسے مجھ میں کوئی جادوئی طاقت آ گئی ہو۔
انڈین جل پری:
انڈیا وہ ملک ہے جہاں افسانوی کہانیاں بہت زیادہ ہیں اور وہاں بھی لوگوں کا اس بات پر یقین ہے کہ جل پریاں ہوتی ہیں۔ اوراس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہوتی کہ جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں سمندر میں تیرتے ہوئے دیکھا ہے۔ 2016 میں ایک وڈیو نے لوگوں کو حیران کر دیا جس میں ایک ایسی مخلوق موجود تھی جس کا جسم انسان کی طرح نظر آرہا تھا اور چہرہ اور نچلا دھڑ مچھلی جیسا دکھائی دیتا تھا، لوگ حیران تھے کہ یہ عجیب الخلقت مخلوق انڈیا کے ساحل پر کہاں سے آئی۔
زومبی جل پری:
جون 2021 میں لیور پول کی ایک خاتون کرسٹی جونز اپنے بچوں کے ساتھ ساحلِ سمندر پر موجود ایک ڈھانچہ دیکھ کر خوفزدہ ہو گئیں جو کہ ایک جل پری کے ڈھانچے جیسا تھا، جس کے آدھے دھڑ پر انسانوں کی طرح کی پسلیاں اور ہڈیاں دکھائی دے رہی تھیں اور نچلے دھڑ پر مچھلی جیسی ٹیل تھی۔ کرسٹی نے یہ تصویر سوشل میڈیا پر ڈالی وہ یہ جاننا چاہتی تھیں کہ یہ ہے کیا ؟ کیا یہ واقعی کسی جل پری کا ڈھانچہ ہے یا کسی انسانی سائز کی کوئی مچھلی ہے۔
کائری ٹیم بیچ کی جل پری:
2009 میں اسرائیل میں کئی لوگوں نے جل پری کو دیکھا ۔ ان تمام لوگوں کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اور وہ سب دعوٰی کررہے تھے کہ انہوں نے جل پری کو دیکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک عورت کو دیکھا جو کہ ڈولفنز کے ساتھ تیر رہی تھی۔ لوگ اس بات پر اتنے پریقین تھے کہ اس پر حکومت نے ایک ملین کا انعام بھی رکھ دیا کہ جو اس کے بارے میں صحیح خبر لائے گا اس کو یہ انعام دیا جائے گا۔ اس کے لئے این بی سی نے اپنا ایک کریو بھی بھیجا تاکہ وہ اس کی فلم بندی کرسکے۔
کوائی پوائنٹ کی جل پری:
1998 میں پروفیشنل غوطہ خور اور فوٹو گرافر جیف لیچر اپنے چھ ساتھی غوطہ خوروں کے ساتھ ہوائی کے ساحل پر موجود تھے جہاں انہوں نے ایک عورت کو دیکھا جو کہ مچلیوں کے ساتھ اتنی تیزی سے تیراکی کر رہی تھی کہ کسی بھی انسان کے لئے یہ ممکن نہیں۔ اور ان لوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ اس کا نچلا دھڑ مچھلی سے مشابہہ ہے ، ان لوگوں نے اس کی تصویر بنائی ، جس پر تحقیق کی گئی اور یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ کوئی انسان نہیں ہے۔ نہ ہی کوئی جعلی تصویر ہے۔
گرین لینڈ کی جل پری:
2013 میں کچھ غوطہ خور سمندری مخلوق کی تصویریں لینے اور ان کے بارے میں جاننے کے لئے سمندر میں اترے تو ان کے کیمرے نے کچھ عجیب الخلقت مخلوق کی تصویر لی۔ یہ مخلوق ان کی سن میرین کے شیشے سے ٹکرائی، اور دیکھنے میں یہ ایک خوفناک ایلین کی طرح کی چیز تھی جس کی شکل انسان سے مشابہہ اور دھڑ مچھلی کے جیسا تھا۔