مرنے کے بعد انسان کے اعمال ہی اس کے کام آتے ہیں۔ بھلے مرنے والا کتنا بھی امیر ہو اس کی دولت جائیداد کسی کام نہیں آتی کیوں کہ کفن میں جیب نہیں ہوتی۔
اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا قبر پر درخت یا پودا لگانا چاہیے تو اس حوالے سے دارالافتاح دیوبند کا جواب ہے کہ "قبر پر پودا یا درخت لگانا درست نہیں نہ ہی سنت ہے جب کہ وہ سنت ومستحب بھی نہیں تو اس کی وجہ سے عذاب کا نہ رکنا بھی ظاہر ہے، البتہ قبر پر اگر گھاس اُگ آئے تو خودرو ہری گھاس کی تسبیح سے میت کو انس ہوتا ہے پس اس کو نہ کاٹنا چاہیے۔ الغرض خود رو ہری گھاس وغیرہ کی تسبیح سے میت کو انس ہوتا ہے اور اس کی تسبیح کی برکت سے اللہ پاک کی خاص رحمت نازل ہوتی ہے، پس اس کو کاٹنا گویا کہ میت کا حق فوت کردینا ہے۔"
سوشل میڈیا پر ایسی قبر کی تصویر وائرل ہوئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آس پاس تیز دھوپ میں سنسان پڑی قبروں کے درمیان ایک ایسی قبر موجود ہے جس پر گھاس بچھی ہوئی ہے۔
اس تصویر کے حوالے سے کسی قسم کی تفصیلات تو موجود نہیں مگر تصویر میں موجود شخص لباس سے عربی معلوم ہورہا ہے۔ تصویر کو دیکھنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ جانے اس نیک شخص نے کون سے اچھے کام کیے تھے جس کی بدولت اللہ تعالیٰ نے اس صحرا میں صرف اسی کی قبر کو سرسبز رکھا رکھا ہوا ہے۔