نامور سیاستدان جو پاکستانی سیاست کا ایک لازم و ملزوم کردار ہیں جن کا نام شیخ رشید احمد ہے۔ پنڈی کی پہچان شیخ رشید ایک طویل عرصے سے سیاست کے اُفق پر چھائے ہوئے ہیں۔ شیخ رشید وفاقی وزیر داخلہ، وفاقی وزیر ریلوے اور وزیر اطلاعات و نشریات بھی رہ چکے ہیں۔
سیاسی پیشنگوئیاں کرنے والے شیخ رشید اپنے دبنگ بیانات کی وجہ سے مشہور ہیں۔ وہ ایک بہترین شخصیت کے مالک ہیں جنہوں نے اپنی ماضی کی زندگی میں بہت محنت کی اور آج مقبول سیاستدانوں کی فہرست میں ان کا شمار ہوتا ہے۔
شیخ رشید کو عوام کا نمائندہ یعنی عوام لیڈر کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ ان کا اندازِ گفتگو سن کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی عام شخص بات کر رہا ہو۔ اپنے ایک پرانے انٹرویو میں شیخ رشید نے کہا تھا کہ وہ پنڈی کی تنگ و تاریک گلیوں میں بہت خوش رہتے ہیں اور اپنے محلے سے بہت پیار کرتے ہیں۔
شیخ رشید سنہ 1950ء میں راولپنڈی کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے طالب علمی کے زمانے میں ہی سیاست میں قدم رکھ لیا تھا۔ 2002ء میں پرویز مشرف کی چھتری تلے ہونے والے انتخابات میں آزاد حیثیت کامیاب ہوئے بعد میں مسلم لیگ ق میں شمولیت کا اعلان کیا۔ وہ پہلے وزیر اطلاعات اور پھر وزیر ریلوے بنے۔ ان کی وجہ شہرت ان کا عوامی انداز، لال حویلی اور سیاسی پیشن گوئیاں ہیں۔
والدہ سے کتنی محبت کرتے تھے؟
شیخ رشید کی اپنی والدہ سے محبت بے مثال تھی۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ بچپن میں ہمیشہ اپنی والدہ کے ساتھ سوتے تھے۔ ان کی ماں بہت عظیم اور دین دار عورت تھیں۔ ہم گیارہ بارا بہن بھائی تھے جن میں سے 2 کا بیچ میں انتقال بھی ہوگیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میری والدہ اکیلی پورے گھر کا کام کرتی تھیں۔ بچپن کی حسین یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا تھا کہ والدہ ان کے لیے برفی خرید کر رکھ لیتی تھیں اور ان کے تکیے کے نیچے رکھ دیتی تھیں جسے وہ بڑے شوق سے کھاتے تھے۔
شیخ رشید نے سہیل وڑایچ کو ایک پرانے انٹرویو میں بتایا تھا کہ میں کافی باغی ہوں۔ اللہ کے علم کو بلند کرنے کے لیے ہمیشہ مولویوں کے پیچھے رہا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ چھ سات سال جیل کاٹی، ماں کا جنازہ چھوڑ کر سات سال قید رہا۔
دوسری جانب والدہ کے انتقال کے وقت شیخ رشید کی ان کے جنازے میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے مختلف اطلاعات بھی سامنے آچکی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 90 کی دہائی میں ایک روز جب شیخ رشید سیالکوٹ جلسے کیلئے جا رہے تھے تب ڈاکٹرز نے فون کر کے انہیں بتایا تھا کہ والدہ کی طبیعت بگڑ گئی ہے، نواز شریف نے شیخ رشید کو لینے کیلئے ہیلی کاپٹر بھیج اور وہ فوری والدہ کے پاس پہنچتے ہیں اور کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ وفات پاجاتی ہیں۔
شیخ رشید عید الضحیٰ پر دو اونٹوں کی قربانی کرتے ہیں جو ایک ماں کے نام ہوتا اور ایک والد کے نام۔