انتقال سے پہلے عامر لیاقت کو کس نے کروڑوں کی رقم پہنچائی تھی؟ دانیہ کی والدہ نے چونکا دینے والے انکشافات کردیئے

image

مرحوم عامر لیاقت حسین کے پوسٹ مارٹم کا کرائی جائے گی یا نہیں اس حوالے سے گذشتہ روز خبر سامنے آئی تھی کہ سندھ ہائی کورٹ نے فریقین کی رضامندی سے عامر لیاقت حسین کے پوسٹ مارٹم کے فیصلے کے خلاف درخواست نمٹا دی ہے۔ عامر لیاقت کے بیٹے اور بیٹی نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے پوسٹ مارٹم کی اجازت کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

عامر لیاقت کی پہلی اہلیہ بشریٰ اقبال اور ان کے بیٹا اور بیٹی کی جانب یہ کہا گیا ہے کہ پوسٹ مارٹم نہ کرایا جائے جبکہ دانیہ اور ان کی والدہ کی جانب سے پوسٹ مارٹم کرائے جانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

اب دانیہ شاہ کی والدہ کی جانب سے اس حوالے سے مزید نئے انکشافات کیئے گئے ہیں جو اس سے قبل کبھی نہیں سنے گئے۔ دانیہ شاہ کی والدہ نے بتایا کہ شادی کے بعد دانیہ لوہے سے بنے ایک کمرے میں رہتی تھی اور اس کمرے کے اندر ایک خفیہ لاکر موجود تھا جس میں 25 کروڑ روپے رکھے تھے۔

انڈیپینڈنٹ اردو کے مطابق دانیہ کی والدہ سلمیٰ بی بی عامر لیاقت کے بارے میں بتایا کہ جب عامر دانیہ کو لے کر سابق وزیراعظم عمران خان کے پاس گئے اور ان کی تصویر وائرل ہوئی تو اس کے بعد ایک شخص آیا اور عامر لیاقت کو 25 کروڑ روپے دے گیا، جس پر عامر لیاقت نے دانیہ کو بتایا کہ ان کو ایک ٹی وی چینل سے پیسے آئے ہیں۔ کل 40 کروڑ روپے ملنے ہیں، جن میں سے 25 کروڑ ملے ہیں۔

دانیہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ عامر لیاقت کی موت سے چار دن قبل ان کی میری بیٹی کے ساتھ صلح ہوگئی تھی، جس کے ثبوت بھی موجود ہیں اور ان میں کچھ ثبوت میری بیٹی یوٹیوب اور انسٹاگرام پر بھی ڈال چکی ہیں۔

انہوں نے بشریٰ اقبال سے سوال پوچھتے ہوئے بھی کہا کہ بشریٰ اقبال کا دعویٰ ہے کہ میری بیٹی دانیہ کے باعث عامر لیاقت ڈپریشن میں جاکر فوت ہوئے، اس لیے دانیہ کو پھانسی دو۔ تو اس کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ عامر لیاقت کا پوسٹ مارٹم ہو تاکہ معلوم ہو سکے کہ ان کے اچانک موت کی وجہ کیا تھی۔ آپ کیوں پوسٹ مارٹم نہیں کرانا چاہتی؟

خیال رہے سابق رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت 9 جون کو اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ انکی اچانک موت نے کئی سوالات کھڑے کردیئے تھے جس کے ثبوت آج تک سامنے نہ آسکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US