ٹوائلٹ اس طرح استعمال کرتے ہیں تو ٹہریے۔۔ 5 عام عادتیں جو آپ کے ہزاروں روپے خرچ کرواسکتی ہیں

image

سستی اور کاہلی کی وجہ سے ہم سب میں ہی کوئی نہ کوئی بری عادت تو ہوتی ہی ہے لیکن اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم بے دھیانی میں کچھ ایسی چیزوں کو اپنی عادت بنا لیتے ہیں جن کے خطرات سے ہم ناواقف ہوتے ہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم چند ایسی ہی باتوں کا ذکر کریں گے تاکہ آپ فوراً ہی ان سے چھٹکارا حاصل کرلیں۔

لڈ بند کیے بغیر فلش کرنا

باتھ روم میں اگر کموڈ ہو تو فلش کرتے ہوئے اس بات کا دھیان رکھیں کہ فلش کرنے کے پہلے فلش کی لِڈ لازمی بند کریں۔ دراصل ہوتا کچھ یوں ہے کہ فلش کے وقت پانی زور سے اوپر آتا ہے اور جراثیم چاروں طرف پھیل جاتے ہیں۔ اگر لڈ بند ہوگی تو جراثیم ٹوائلٹ سیٹ سے باہر نہیں آئیں گے اور باتھ روم خطرناک جراثیموں سے پاک رہے گا۔

زیادہ سرف کپڑوں سے داغ صاف نہیں کرتا

سخت داغوں کو صاف کرنے کے لئے لوگ زیادہ سرف کا استعمال کرتے ہیں یا لیکوئیڈ ڈٹرجنٹ کو داغ پر لگا دیتے ہیں لیکن ہوتا اس کے بالکل برعکس ہے۔ زیادہ ڈٹرجنٹ سے زیادہ جھاگ بنتا ہے جس کی وجہ سے داغ صحیح طرح صاف نہیں ہوپاتا۔

فریج میں ایک ساتھ سبزی رکھنا

آپ نے دیکھا ہوگا کہ اکثر فریج میں بہت زیادہ سبزی رکھیں تو وہ جلدی خراب ہوجاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے مائیکروبز تیزی سے پھیلتے ہیں اور ایک پھل سے دوسرے پھل میں منتقل ہوجاتے ہیں اسی وجہ سے سبزیاں اور پھل زیادہ سڑتے ہیں۔

دودھ کو کبھی فریج کے دروانے والے شیلف میں نہ رکھیں

دودھ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے بوتل میں بھر کر دروازے والے شیلف میں رکھنا ایک عام عادت ہے لیکن یہ غلط طریقہ ہے۔ فریج کا دروازے والا حصہ کم ٹھنڈا ہوتا ہے اور بار بار فریج کھلنے کی وجہ سے بھی بھرپور انداز میں ٹھنڈا نہیں ہوپاتا جبکہ ڈیری اشیاء خاص طور پر دودھ کو خراب ہونے سے بچاے کے لئے زیادہ ٹھنڈک چاہیے۔ دودھ کو ہمیشہ فریج کے اندرونی اور زیادہ ٹھنڈے حصے میں رکھیں۔

ٹوائلٹ پیپر رکھنا

گھر سے باہر ٹوائلٹ سیٹ استعمال کرتے ہوئے لوگ خود کو صاف رکھنے کے لئے ٹوائلٹ پیپر کا استعمال کرتے ہیں جب کہ یہ نہیں جانتے کہ یہ طریقہ جراثیم کو مزید دعوت دینے کے برابر ہے کیوں کہ جراثیم پیپر کے نیچے خوب پھلتے پھولتے ہیں۔ اس کے بجائے سیٹ کو سینیٹائز کرلیں تو زیادہ بہتر ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US