سستی اور کاہلی کی وجہ سے ہم سب میں ہی کوئی نہ کوئی بری عادت تو ہوتی ہی ہے لیکن اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم بے دھیانی میں کچھ ایسی چیزوں کو اپنی عادت بنا لیتے ہیں جن کے خطرات سے ہم ناواقف ہوتے ہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم چند ایسی ہی باتوں کا ذکر کریں گے تاکہ آپ فوراً ہی ان سے چھٹکارا حاصل کرلیں۔
لڈ بند کیے بغیر فلش کرنا
باتھ روم میں اگر کموڈ ہو تو فلش کرتے ہوئے اس بات کا دھیان رکھیں کہ فلش کرنے کے پہلے فلش کی لِڈ لازمی بند کریں۔ دراصل ہوتا کچھ یوں ہے کہ فلش کے وقت پانی زور سے اوپر آتا ہے اور جراثیم چاروں طرف پھیل جاتے ہیں۔ اگر لڈ بند ہوگی تو جراثیم ٹوائلٹ سیٹ سے باہر نہیں آئیں گے اور باتھ روم خطرناک جراثیموں سے پاک رہے گا۔
زیادہ سرف کپڑوں سے داغ صاف نہیں کرتا
سخت داغوں کو صاف کرنے کے لئے لوگ زیادہ سرف کا استعمال کرتے ہیں یا لیکوئیڈ ڈٹرجنٹ کو داغ پر لگا دیتے ہیں لیکن ہوتا اس کے بالکل برعکس ہے۔ زیادہ ڈٹرجنٹ سے زیادہ جھاگ بنتا ہے جس کی وجہ سے داغ صحیح طرح صاف نہیں ہوپاتا۔
فریج میں ایک ساتھ سبزی رکھنا
آپ نے دیکھا ہوگا کہ اکثر فریج میں بہت زیادہ سبزی رکھیں تو وہ جلدی خراب ہوجاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے مائیکروبز تیزی سے پھیلتے ہیں اور ایک پھل سے دوسرے پھل میں منتقل ہوجاتے ہیں اسی وجہ سے سبزیاں اور پھل زیادہ سڑتے ہیں۔
دودھ کو کبھی فریج کے دروانے والے شیلف میں نہ رکھیں
دودھ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے بوتل میں بھر کر دروازے والے شیلف میں رکھنا ایک عام عادت ہے لیکن یہ غلط طریقہ ہے۔ فریج کا دروازے والا حصہ کم ٹھنڈا ہوتا ہے اور بار بار فریج کھلنے کی وجہ سے بھی بھرپور انداز میں ٹھنڈا نہیں ہوپاتا جبکہ ڈیری اشیاء خاص طور پر دودھ کو خراب ہونے سے بچاے کے لئے زیادہ ٹھنڈک چاہیے۔ دودھ کو ہمیشہ فریج کے اندرونی اور زیادہ ٹھنڈے حصے میں رکھیں۔
ٹوائلٹ پیپر رکھنا
گھر سے باہر ٹوائلٹ سیٹ استعمال کرتے ہوئے لوگ خود کو صاف رکھنے کے لئے ٹوائلٹ پیپر کا استعمال کرتے ہیں جب کہ یہ نہیں جانتے کہ یہ طریقہ جراثیم کو مزید دعوت دینے کے برابر ہے کیوں کہ جراثیم پیپر کے نیچے خوب پھلتے پھولتے ہیں۔ اس کے بجائے سیٹ کو سینیٹائز کرلیں تو زیادہ بہتر ہے۔