آج زندگی کی بھاگ دوڑ میں مصروف کبھی فرصت کے لمحات میسر آئیں تو بچپن بڑا یاد آتا ہے۔ وہ بچپن کے کھیل کود، وہ مزے مزے کے کھانے وہ محلے کے دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا۔۔ آج کے فاست فوڈ کے شوقین بچے کیا جانیں ان ٹھیلوں کی گندی سندی رنگ برنگی گولیوں ، کھٹی میٹھی املی اور کاغذ کے ٹکڑے پر ملنے والے کالے چنوں کا مزا کسی اور ہی دنیا کا لگتا تھا۔ اماں ابا سے چھپ کر کالا والا چورن بھی کھاتے تھے۔
بچپن کے کھیل کود:
بارش میں فوراً ہی گھرسے کاغذ اور گتے لا کر کشتیاں بنائی جاتی تھیں اور پانی کے گڑھوں میں وہ کشتیا ں چلا ئی جاتی تھیں۔ وہ سنہری یادیں جو اس وقت تو حسین نہیں لگتی تھیں لیکن آج ان سے زیادہ حسین یاد کوئی نہیں۔ آج کے بچے موبائل، ٹیبلٹس میں سارے کھیل کھیل کر خوش ہو جاتے ہیں، ہم تو جب تک سارا دن اچھل کود، چھتوں پر چڑھنا، کیریاں توڑنا، پٹھو باری، کھو کھو، چھپن چھپائی نہیں کھیلتے تھے ، سکون نہیں آتا تھا۔ دوپہر میں اسکول سے آنے کے بعد اماں دبکا کر لٹاتی تھیں لیکن بچے اماں کے سوتے ہی ان کی بغل میں سے کھسک کر چھت پر یا صحن میں پہنچے ہوتے تھے۔ سارا دن دھوپ اور گرمی کی پرواہ کئے بغیر دھما چوکڑی مچی رہتی تھی۔ لڑکیوں کا پسندیدہ کھیل گڑیا گڈے کی شادی ہوتی تھی ، جس میں سارے محلے کی بچیاں حصہ لیتی تھیں۔ گڑیوں کا جہیز بنایا جاتا تھا ، کپڑے سیے جاتے تھے اسی طرح کھیل کھیل میں بچیوں کو کھانا پکانا اور کپڑے سینا بھی آجاتا تھا۔ لڑکوں کی پتنگ بازی چلتی تھی ، کرکٹ کا اس وقت اتنا رواج نہیں تھا۔ لیکن وہ دن حسین ترین دن اور وہ کھیل مزیدار ترین کھیل ہوتے تھے۔ آنکھ مچولی لڑکے لڑکیوں کا مشترکہ کھیل تھا۔ سارے کزنز مل کر کھیلتے تھے۔ پہل دوج، کنچے اور نہ جانے کون کون سے کھیل ہوتے تھے۔ جس میں سارا دن گزر جاتا تھا۔

وہ رنگ برنگی گولیاں ، وہ کھٹی میٹھی املی:
بچپن میں ہمیں یاد ہے کہ ٹھیلے پرایک انکل آتے تھے جن کے پاس کالے چنے بھی ہوتے تھے وہ کاغذ کے ٹکڑے پر رکھ کر وہ چنے دیتے تھے جس کے ساتھ گتے کا چھوٹا سا ٹکڑا بھی دیتے تھے جو کہ بطور چمچ استعمال ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ ایک غبارے والا آتا تھا جس کے پاس وہ کھینچ کر لمبی کر کے مختلف شکلیں بنانے والی ٹافی ہوتی تھی جس سے کبھی حقہ تو کبھی چڑیا تو کبھی گڑیا بناکر دیتے تھے۔ اس کے ساتھ ایک پتلی سی اسٹرا ہوتی تھی جس میں کالا چورن بھرا ہوتا تھا وہ تو سب بچوں کا پسندیدہ تھا، کھٹی میٹھی املی ،ا ور رنگین گولیاں بھی ملتی تھیں، جنہیں بڑے شوق سے کھیا جاتا تھا، یا پھر ٹھیلوں پر کٹی ہوئی نمک مرچ ڈلی کیری یا کتارے ملتے تھے جنہیں اماؤں سے چھپ کر کھایا جاتا تھا۔
چھٹی کے دن دادا دادی سے ملنے جانا:
جس گھر میں دادا دادی ہوتے تھے وہاں رونق لگتی تھی، ہر چھٹی کا دن اس گھر میں گزرتا تھا جہاں دادا دادی ہوتے تھے، سارے مل کر کھانا کھاتے تھے، کھیلتے کودتے تھے، دادا دادی سے کہانیاں سنتے تھے۔ کسی بچے میں کوئی فرق نہیں رکھا جاتا کہ کون کس کا بچہ ہے جو غلطی کرتا تھا وہ ڈانٹ سنتا تھا، اور جو اچھے کام کرتا انعام پاتا تھا۔ محلے کے سب بچے مل کر کسی محلے کی نانی یا دادی کے پاس قرآن پڑھنے جاتے تھے۔
محلے کی لائبریری:
پہلے جگہ جگہ گلی محلوں میں لائبریریاں ہوتی تھیں، جہاں سے بچوں کے لئے ٹارزن، عمروعیار، یا شہزادے شہزادیوں کی جل پریوں کی کہانیاں ملتی تھیں ، ذرا بڑے بچے اشتیاق احمد کی محمود فاروق ، فرزانہ اور انسپکٹر جمشید کی سیریز اور ابن صفی یا مظہر کلیم ایم اے کی عمران سیزیز پڑھتے تھے، امیاں رضیہ بٹ یا بشرٰی رحمان کے ناولز منگواتی تھیں، اور پڑھنے کے بعد کرایہ دے کر وہ کہانیاں واپس کردی جاتی تھیں۔
ساحلِ سمندر کی پکنک:
ساحلِ سمندر پر سارا خاندان مل کر پکنک مناتا تھا، کھانے پھائے جاتے تھے، آموں کی پیٹیاں رکھی جاتی تھیں، چپس نمکو وغیرہ لیاجاتا تھا، اس کے بعد سب کسی کوسٹر یا ہائی ایس میں بھر کر پکنک پوائنٹ پہنچتے تھے ، آج کل تو کسی بھی فارم ہاؤس کو بک کروالیا جاتا ہے وہاں سب پکنک منا لیتے ہیں۔ اول تو سب کا جمع ہونا اور مل کر کہیں جانا ہی ایک مرحلہ بن گیا ہے۔ ہر ایک کی اپنی مصروفیت ہے۔ سالوں ، مہینوں ایک دوسرے سے ملاقات نہیں ہو پاتی۔
بچپن کی تقریبات:
پہلے سب بچوں کی بسم اللہ، آمین، روزہ کشائی وغیرہ کا زیادہ رواج تھا۔ سالگرہ منانا اتنا عام نہیں تھا۔ بسم اللہ یا آمین یا روزہ کشائی خوب دھوم دھام سے منائی جاتی تھی بچوں کو پھولوں کے ہار سے لاد دیا جاتا تھا، خوب تحفے ملتے تھے، خوب لفافے جمع ہوتے تھے۔ ایسے ہی شادی بیاہ میں بھی دنوں پہلے سے سارا خاندان جمع ہو جاتا تھا۔ گھر میں ہی ابٹن بنایا جاتا تھا ، ابٹن کھیلا جاتا تھا۔ مزے کی رسمیں ہوتی تھیں جس میں سارا خاندان پیش پیش ہوتا تھا۔
ٹی وی پروگرام اور ڈرامے:
پہلے کے ڈراموں میں دھواں، ان کہی، تنہائیاں، الفا براوو چارلی، انا، عینک والا جن، پنک پنتھر کا کارٹون، وہ صبح صبح مستنصر حسین تارڑ عرف چاچا جی کی مزیدار باتیں، شام میں 5 بجے سے رات 11، 12 بجے تک ٹی وی آتا تھا۔ اس کے بعد بند ہوجاتا تھا آج کی طرح سینکڑوں ٹی وی چینل اور 24 گھنٹے نہیں چلتا تھا۔ انتظار رہتا تھا کہ کب ٹی وی شروع ہوگا۔