مشہور شخصیات کی زندگی سے متعلق ایسی کئی معلومات ہی جو کہ سب کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں، لیکن کچھ کی ان کہی داستان کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
نواز شریف:
نواز شریف پاکستان کی مشہور شخصیات میں سے ایک ہیں، لیکن ان کے ایک بھائی ایسے بھی تھے جن زیادہ تر میڈیا پر آنا پسند نہیں کرتے تھے۔ عام طور پر شریف فیملی کے ممبران میں نواز اور شہباز شریف سمیت مریم اور کلثوم نواز ہی توجہ کا مرکز رہے ہیں، لیکن عباس شریف بھی اپنے منفرد انداز کی بدولت مشہور تھے۔
اگرچہ وہ سیاست میں متحرک نہیں تھے اور دور رہتے تھے مگر انہیں لوگ سچ مچ شریف ہونے کی وجہ سے یاد کیا کرتے تھے۔ عباس شریف نے عام زندگی میں تبلیغ اور دینی کاموں کو زیادہ اہمیت دی تھی اور اپنے آپ کو اسی طرف وقف کر دیا تھا۔
ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق عباس شریف جمعے کی نماز پڑھ کر جیسے ہی مسجد سے باہر نکلے تو انہیں کرنٹ لگا، اسپتال ذرائع کے مطابق عباس شریف کو کرنٹ لگنے کے بعد دل کا دورہ پڑا، جو جان لیوا ثابت ہوا۔
نواز شریف چھوٹے بھائی سے بے انتہا محبت کرتے ہیں، ان کے بچوں کی دیکھ بھال اور خیال بھی نواز شریف رکھتے ہیں۔
عمران خان:
سابق وزیر اعظم عمران خان اگرچہ اکلوتے بھائی ہیں اور ان کی تین بہنیں ہیں۔ لیکن وہ اپنی ہر بہن سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں۔
عمران خان کی شادی کے حوالے سے بھی تینوں بہنوں کی رضامندی ضرور شامل ہوتی، یہاں تک کہ جب والدہ بیٹے کے لیے کوئی لڑکی پسند کرتیں تو اس میں بہنیں بھی اپنی رضامندی شامل کرتی تھیں۔ دوسری جانب بہنیں بھی بھائی کو خوب سپورٹ کرتی ہیں، چاہے سیاسی جلسہ ہو یا پھر الیکشن کا موقع، بہنیں ہر موقع پر بھائی کی سپورٹ میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوتی ہیں۔
حمزہ شہباز:
چند دن ہی سہی، لیکن وزیر اعلٰی کا تخت سنبھالنے والے حمزہ شہباز بھی بہنوں سے بے حد پیار کرتے ہیں، پرویز مشرف کے دور میں جب ان کی فیملی جلا وطن تھی، تو والدہ اور بیٹیاں پاکستان میں ایک بیٹی کی شادی کے سلسلے واپس وطن آئی تھیں۔
حمزہ نے والدہ اور بہنوں کو حفاظتی حصار میں لیا اور گھر کو چل دیے، دوسری جانب حمزہ مریم کو بھی اپنی بہن تصور کرتے ہیں، اور مریم کو بھی اسی طرح شفقت بھرا پیار کرتے ہیں جیسے کہ اپنی بہنوں سے کرتے ہیں۔ جلسے جلوسوں میں بھی حمزہ مریم کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔
حامد میر:
مشہور اینکر حامد میر کا شمار صحافت کے ان بڑے ناموں میں ہوتا ہے جن کے قلم کی طاقت سے سیاست دان سمیت ہر باشعور انسان متوجہ ہوتا ہے۔
لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا جب ان کے بھائی صحافی عامر میر بھی بھائی کو دیکھ کر جذباتی ہو گئے تھے، کیونکہ 2014 میں جب حامد میر پر حملہ ہوا تو اس وقت ان کی جان پر بات آ گئی تھی۔
اس صورتحال میں عامر دن رات بھائی کے پاس اسپتال میں رہتے تھے، انہیں اکیلا نہیں چھوڑتے تھے۔