سال 2022 کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کیونکہ رواں سال سیلاب کے باعث جو تباہی ہوئی اس میں ہزاروں افراد جان کی بازی ہار گئے۔
سندھ کے بیشتر شہر جن میں خیرپور، سکھر، بدین، دادو میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے گھر سیلابی ریلے میں بہہ گئے جس کے باعث متاثرین دوسرے شہروں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
وہیں سندھ کے شہر سکھر کے ایک غریب رکشہ ڈرائیور عمران بھی سیلاب کی وجہ سے شدید متاثر ہوئے جس کے بعد وہ مشکلات کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
سندھ کے شہر سکھر میں بھی بارشوں اور سیلاب سے جہاں سینکڑوں گھر تباہ ہوئے وہیں احمد نگر علاقے سے تعلق رکھنے والی غریب رکشہ ڈرائیور عمران پر بھی قیامت ٹوٹ پڑی۔
احمد نگر میں گھر کی چھت گرنے سے تین بچوں کی ماں انتقال کرگئی جبکہ حادثے کے نتیجے میں گھر میں موجود قیمتی سامان بھی تباہ ہوگیا۔
عمران کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ٹوٹے ہوئے گھر میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے جبکہ تاحال کوئی بھی حکومتی نمائندہ اب تک ان کی مدد کو نہیں آیا ہے۔ مذکورہ شخص نے بتایا کہ گھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور رات کو مچھروں کا جھنڈ سونے نہیں دیتا۔