میری ٤ بیویاں ہیں اور 23 بچے۔ دراصل میری 2 بیویاں دوست کی بیوائیں ہیں جن کے پہلے سے ہی 5 بچے تھے۔ میں نے انھیں سہارا دینے کے لئے شادی کی تھی۔ اب حال ایسا ہے کہ کھانا بھی مانگ کر کھانا پڑتا ہے۔ لوگوں کو بتاؤں کہ 23 بچے ہیں تو کوئی یقین نہیں کرتا۔ سمجھتے ہیں ہم زیادہ کھانا مانگنے کے لے جھوٹ بول رہے ہیں“
یہ کہنا ہے غلام حسین کا جن کا تعلق بلوچستان ہے لیکن وہ پنجاب میں رہتے ہیں۔ غلام حسین کا کہنا ہے کہ سیلاب سے پہلے وہ لاکھوں میں کماتے تھے۔ ان کا موٹر سائیکلوں کا شوروم تھا۔ اس کے علاوہ زمین بھی تھی جہاں سے اناج آجاتا تھا لیکن اب سب سیلاب کے پانی میں ڈوب چکا ہے۔
ایک ماہ کا بچہ بھی ہے
28 افراد پر مشتمل اس خاندان کے سربراہ غلام حسین نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میرے دو دوستوں کا انتقال ہوا تو میں نے ان کی بیواؤں سے شادی کی اور ان کے بچوں کو بھی ساتھ رکھا۔ ابھی ایک نومولود بچہ بھی ہے۔
بیویاں بھی صابر ہیں
البتی غلام حسین ابھی بھی پر امید ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسائل تو ہیں لیکن اللہ پر بھروسہ ہے وہ سب ٹھیک کردے گا۔ حکومت نے دو خیمے تو دئیے مگر میرا خاندان بڑا ہے جس کی وجہ سے بے پردگی ہوتی ہے۔ ان کے گھر کے کمرے اور غسل خانہ بھی ٹوٹ گیا ہے۔ غلام حسین کی بیگمات بھی ان کی طرح صابر شاکر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اللہ نے اگر مشکل دی ہے تو وہی اس کا حل بھی نکالے گا۔