ٹاس کے دوران ’نو ہینڈ شیک:‘ انڈیا کے ساتھ میچ سے قبل تنازع جس پر بنگلہ دیش بورڈ کو وضاحت دینی پڑی

سنیچر کو زمبابوے کےشہر بلاوائیو میں کھیلے جانے والے میچ میں انڈیا انڈر 19 نےبنگلہ دیش کو ڈک ورتھ لوئس میتھیڈ کے تحت 18 رنز سے شکست دے دی تھی۔ لیکن اس میچ کے نتیجے سے زیادہ ٹاس کے دوران ہاتھ نہ ملانے کے معاملے پر بات ہو رہی ہے۔
انڈیا، بنگلہ دیش
Getty Images
انڈیا انڈر 19 نےبنگلہ دیش کو ڈک ورتھ لوئس میتھیڈ کے تحت 18 رنز سے شکست دے دی

’حریف کپتان سے مصافحہ نہ کرنا مکمل طور پر غیر ارادی اور توجہ بٹنے کا نتیجہ تھا۔۔اس کا مقصد حریف کی توہین نہیں تھا۔‘

یہ وہ وضاحت ہے جو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ کے میچ میں ٹاس کے دوران انڈین کپتان سے ہاتھ نہ ملانے کے معاملے پر دی ہے۔

سنیچر کو زمبابوے کےشہر بلاوائیو میں کھیلے جانے والے میچ میں انڈیا انڈر 19 نےبنگلہ دیش کو ڈک ورتھ لوئس میتھیڈ کے تحت 18 رنز سے شکست دے دی تھی۔ لیکن اس میچ کے نتیجے سے زیادہ ٹاس کے دوران کپتانوں کے ہاتھ نہ ملانے کے معاملے پر بات ہو رہی ہے۔

اس معاملے کو انڈیا اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں مسلسل بڑھتے ہوئےتناؤ کے اثر کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے اور اس پر سوشل میڈیا پر بھی بحث جاری ہے۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے اپنی ٹیم انڈیا بھیجنے سے انکار کر دیا ہے اور اس معاملے پر اس کے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ساتھ مذاکرات میں بھی ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

تصویر
Getty Images
بنگلہ دیش انڈر 19 ٹیم کے کپتان عزیز الحکیم ہیں

سنیچر کو میچ سے قبل کیا ہوا؟

بلاوائیو میں کھیلے گئے میچ کے دوران بنگلہ دیش انڈر 19 کے نائب کپتان زوار ابرار ٹاس کے لیے آئے۔

اُنھوں نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا اور ٹی وی میزبان سے روایتی گفتگو کے بعد وہ انڈین کپتان ایوش ماترے سے ہاتھ ملائے بغیر وہاں سے چلے گئے۔

عمومی طور پر ہوتا یہ ہے کہ ٹاس جیتنے والا کپتان اپنی گفتگو مکمل کرنے کے بعد دوسرے کپتان سے مصافحہ کر کے اپنے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھتا ہے۔ لیکن زوار ابرار انڈین کپتان سے ہاتھ ملائے بغیر وہاں سے چلے گئے۔

بنگلہ دیش انڈر 19 ٹیم کے کپتان عزیز الحکیم ہیں، لیکن وہ بیماری کی وجہ سے ٹاس کے لیے نہیں آئے، اُن کی جگہ ابرار کو ٹاس کے لیے بھیجا گیا۔

ٹاس کے دوران ہاتھ نہ ملانے سے متعلق تنازع پہلی مرتبہ گذشتہ برس 14 ستمبر کو اس وقت سامنے آیا تھا جب انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو پاکستانی کپتان سلمان علی آغا سے ہاتھ ملائے بغیر ٹاس کے دوران واپس چلے گئے تھے۔

یہاں سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان کرکٹ کے میدان میں بھی کشیدگی کا آغاز ہو گیا تھا، کھلاڑیوں نے میچ کے بعد بھی روایتی ہینڈ شیک نہیں کیا تھا اور سوریا کمار یادیو میچ جیتنے کے بعد اپنی ٹیم کو لے کر ڈریسنگ روم میں چلے گئے تھے۔

اس دوران پاکستان ٹیم کے کھلاڑی انڈین ڈگ آؤٹ کی جانب بڑھے، لیکن اس دوران سوریا کمار یادیو دبئی میں ڈریسنگ روم کا دروازہ بند کرتے دکھائی دیے تھے۔

میچ کے بعد دونوں ٹیموں نے ہاتھ ملایا

اس معاملے پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹیم کے کھلاڑیوں کو یاد دلایا گیا ہے کہ وہ مخالف ٹیموں سے میل جول کے دوران سپورٹس مین شپ، دوستی اور باہمی احترام کے معیار کو برقرار رکھیں۔

بی سی بی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ میدان کے اندر اور باہر کرکٹ کی اقدارکی پیروی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیا گیا ہے کیونکہ کسی بھی سطح پر بنگلہ دیش کی نمائندگی کے لیے کرکٹ کی روح کو برقرار رکھنا اور مخالفین کا احترام کرنا شرط ہے اور اس سلسلے میں ٹیم انتظامیہ کو فوری طور پر ہدایات دے دی گئی ہیں۔‘

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے مطابق میچ کے اختتام پر دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا۔

تصویر
Getty Images
ایشیا کپ کے میچز کے دوران انڈین ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو نے پاکستانی کپتان سے مصافحہ نہیں کیا تھا

سوشل میڈیا پر ردِعمل

دونوں ٹیموں کے کپتانوں کے مابین ٹاس کے دوران ہینڈ شیک نہ ہونے کے بعد میچ کے دوران بھی تلخی برقرار رہی۔

میچ شروع ہوا تو بنگلہ دیشی بولر زوار ابرار اور انڈین اوپنر سوریا ونشی کے مابین بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

تاجیش نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ابھی تو یہ آغاز ہے۔۔نو ہینڈ شیک میں بنگلہ دیش کو خوش آمدید۔۔آگے یہ معاملہ مزید دلچسپ ہو گا۔۔جب انڈیا اور پاکستان کی ٹیمیں مدِ مقابل آئیں گی۔

پاکستانی صحافی ماریانہ بابر لکھتی ہیں کہ انڈیا اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کے درمیان میچ سے قبل تناؤ، دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے مصافحے کرنے سے گریز کیا۔

شادمان ثاقب ارناب لکھتے ہیں کہ چلیں ہینڈ شیک ڈرامہ ختم ہوا، بنگلہ دیش بورڈ نے واضح کر دیا کہ یہ غلط تھا اور غلط فہمی کا نتیجہ تھا۔ میچ کے بعد دونوں ٹیموں نے مصافحہ کر لیا۔

دوسری جانب بعض انڈین میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ انڈین کپتان نے بنگلہ دیشی کپتان سے مصافحے سے انکار کیا۔

ایک صارف نے لکھا کہ یہ انڈین کرکٹ کا دہرا معیار ہے۔ ٹاس کے دوران ہاتھ نہیں ملایا اور میچ کے اختتام پر دونوں ٹیموں نے مصافحہ کیا۔

سپورٹس جرنلسٹ امول کرہڈکر نے ایکس پر لکھا کہ ’میدان میں کوئی مصافحہ نہیں۔ کرکٹ کو کبھی جنٹلمین گیم سمجھا جاتا تھا۔‘

بنگلہ دیش اور انڈیا کے مابین تناؤ کی وجہ کیا ہے؟

یوں تو بنگلہ دیش اور انڈیا کے تعلقات شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ہی خراب ہیں لیکن گذشتہ ماہ بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہروں کے دوران ایک ہندو شخص کی ہلاکت نے دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید خراب کر دیا۔

اب دونوں ہمسایہ ممالک تواتر سے ایک دوسرے پر تعلقات خراب کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں، ایک دوسرے کے سفارتی عملے کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں اور عوامی سطح پر بیانات جاری کیے جا رہے ہیں۔

بنگلہ دیش میں ہندو شخص کو اُس وقت ہلاک کیا گیا جب دارالحکومت ڈھاکہ میں طالبعلم رہنما عثمان ہادی کے قتل کے بعد پُرتشدد مظاہرے کیے جا رہے تھے۔

انڈیا، شیخ حسینہ کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے ہی بنگلہ دیش میں اقلیتوں اور بالخصوص ہندو کمیونٹی پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتا رہا ہے۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا تھا کہ موجودہ حالات میں وہ اپنی ٹیم کو آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے انڈیا نہیں بھیج سکتے، لہذا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل بنگلہ دیش کے میچز کسی اور مقام پر منتقل کر دے۔

سات فروری 2026 سے شروع ہونے والی ٹی 20 ورلڈ کپ کی میزبائی انڈیا اور سری لنکا کے پاس ہے۔

واضح رہے کہ انڈیا کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے پاکستان بھی ورلڈ کپ کے اپنے تمام میچز انڈیا کے بجائے سری لنکا میں کھیلے گا۔

بنگلہ دیش کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا تھا، جب انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے عوامی مخالفت اور تنقید کے بعد بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمن کو انڈین پریمیئر لیگ سے ریلیز کر دیا تھا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US