بچوں اور بڑوں میں جب کبھی نزلہ زکام ہوتا ہے، تو سیرپ دیا جاتا ہے، تاہم سردیوں کے اس موسم میں بغیر ڈاکٹر کی صلاح اور مشورے کے لیا جانے والا سرپ موت کا باعث بن رہا ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
ازبکستان میں 18 بچے کھانسی کا بھارتی شربت پینے سے جاں بحق ہو گئے ہیں، جبکہ کئی بچوں کی حالت غیر ہو گئی ہے۔
ازبک ہیلتھ منسٹری کے مطابق 18 سے 21 بچوں کو Doc-1 Max syrup دیا گیا تھا، یہ سیرپ سانس کے مرض میں مبتلا بچوں کو دیا گیا تھا، جبکہ بھارتی دواساز سیرپ کمپنی کی ویب سائٹ پر لکھا گیا تھا کہ سیرپ فلو اور ٹھنڈ کے خلاف مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم تحقیات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بھارتی سیرپ میں خطرناک جان لیوا کیمیکل ایتھیلین گلائیکول شامل تھا، جس کے باعث بچوں کی موت ہوئی۔
واضح رہے اس سے پہلے نزلہ، زکام، بخار کے اس سیرپ کے پینے سے 99 بچے گردے فیل ہونے کے باعث انتقال کر گئے تھے جبکہ 200 سے زائد بچوں کی حالت غیر ہو گئی تھی۔ انڈونیشیئن وزارت صحت نے بھارتی ساختہ اس سیرپ پر پابندی عائد کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارتی فارمیسی Maiden Pharmaceuticals کی جانب سے یہ سیرپ بنائی گئی تھی، جس کی فیکٹری بھارتی شہر ہریانہ میں واقع ہے۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی کمپنی کے بنائے گئے 4 سیرپ جان لیوا ثابت ہوئے ہیں، جن میں Promethazine Oral Solution, Kofexmalin Baby Cough Syrup, Makoff Baby Cough Syrup and Magrip N Cold Syrup شامل ہیں۔
عالمی ادارے صحت کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کے مطابق ان تمام سیرپ میں کیمیکل کی مقدار حد سے زیادہ ہے، جس نے انسانی صحت کے لیے خطرہ پیدا کیا۔
ادارے کی جانب سے انکشاف کیا گیا کہ ڈائی ایتھیلین گلائیکول اور ایتھیلین گلائیکول انسان میں پیٹ کا درد، الٹیاں، ڈائیریا، پیشاب کرنے میں مشکل، سر درد، دماغی طور پر کمزور سمیت گردے بھی خراب کر سکتی ہے۔
یہ دوائیاں اگرچہ پاکستان میں نہیں تاہم آپ کے عزیز و اقارب پاکستان سے باہر جہاں کہیں بھی رہتے ہیں، انہیں آپ مطلع کر سکتے ہیں، اور اس جان لیوا سیرپ سے بچا سکتے ہیں۔