گل پلازہ سے مزید 30 لاشیں اور باقیات مل گئیں، جاں بحق افراد کی تعداد 61 ہوگئی، دیگر کی تلاش

image

کراچی میں ہولناک آتشزدگی سے تباہ گل پلازہ میں بدھ کے روز سرچ آپریشن کے دوران میزنائن فلور سے مزید 30 لاشیں ملی ہیں جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 61 تک جاپہنچی۔ جبکہ لاپتا افراد کی ترتیب دی گئی فہرست کے مطابق اب بھی 53 افراد کا کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی، تمام 30 لاشیں ایک کراکری کی دکان سے ملی ہیں۔

ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق ملبہ ہٹانےکا کام روک دیا گیا ہے، پہلے لاشیں نکالی جارہی ہیں۔

گل پلازہ میں آگ لگنےکے بعد لوگوں نے خود کو بچانےکے لیے دکان میں بند کرلیا تھا، ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی جگہ کی آئی تھی۔

میزنائن فلور پر واقع کراکری دکان کے مالک سلمان کا کہنا ہےکہ دکان سے ہم نے خود 14 افراد کی باقیات نکالی ہیں، واقعے کے وقت ہمارے کزن اور ملازمین بھی تھے، دکان میں بڑی تعداد میں خواتین اور دیگر افراد بھی موجود تھے۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس اب تک 2 دکانوں سے 21 باقیات لائی گئی ہیں، ہم ابھی کنفرم نہیں کرسکتے ہیں کہ یہ 21 لاشیں ہی ہیں یا کتنے افراد کی باقیات ہیں؟ آج صبح سے سول اسپتال میں صرف باقیات ہی لائی گئی ہیں۔

دوسری جانب حادثے میں تین مزید لاشوں کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ 17 لاشیں ناقابل شناخت ہیں۔

تمام لاپتا افراد کے ملنے تک عمارت نہیں گرائی جائے گی، ڈی سی ساؤتھ

گل پلازہ میں پیش آنے والے سانحے کے پانچویں روز بھی ریسکیو اور سرچ آپریشن جاری ہے، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے واضح کیا ہے کہ جب تک ایک بھی لاپتا شخص موجود ہے اس وقت تک عمارت کو نہیں گرایا جائے گا۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ گل پلازہ میں ریسکیو آپریشن مسلسل جاری ہے اور حکام کی کوشش ہے کہ ملبے سے نکالی گئی لاشوں کی جلد از جلد شناخت ممکن بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جاں بحق افراد کی تعداد 28 ہوچکی ہے جبکہ ملبے سے نکلنے والے 17 افراد کی شناخت ہونا ابھی باقی ہے، اب تک 11 افراد کی شناخت مکمل کی جا چکی ہے۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق 85 افراد تاحال لاپتا ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 39 لاپتا افراد کی لوکیشن گل پلازہ کی عمارت میں آئی ہے تاہم بلڈنگ کے کچھ حصے ایسے ہیں جہاں ریسکیو ٹیمیں ابھی تک نہیں پہنچ سکیں۔ گرے ہوئے حصوں سے ملبہ ہٹانے کا عمل مشینری اور دستی دونوں طریقوں سے جاری ہے، تاہم بھاری ملبے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔

جاوید نبی کھوسو نے مزید بتایا کہ عمارت کے اندر اب بھی دھواں اور شدید گرمائش موجود ہے، جس کے باعث کولنگ کا عمل بھی ساتھ ساتھ جاری رکھا جا رہا ہے۔ جہاں تک رسائی ممکن ہو رہی ہے وہاں سرچ کیا جا چکا ہے اور تکنیکی معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاط کے ساتھ ریسکیو اور سرچ آپریشن آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاپتا افراد کی فہرست میں کچھ نام دہری اندراج کی وجہ سے شامل ہو گئے ہیں جن کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ کسی قسم کی جلد بازی نہیں کی جا رہی کیونکہ یہ انسانی جانوں کا معاملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ایک بھی لاپتا شخص موجود ہے عمارت کو نہیں گرایا جائے گا اور جب تمام کارروائی مکمل ہو جائے گی تب پوری عمارت کو منہدم کیا جائے گا۔

ڈی سی ساؤتھ نے یہ بھی بتایا کہ ساتھ واقع رمپا پلازہ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) سے رمپا پلازہ کے نقشے اور دیگر متعلقہ دستاویزات طلب کر لی گئی ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US