“میں امریکی چرچ کا یوتھ لیڈر تھا۔ لوگوں کو عیسائی مذاہب کی طرف لاتا تھا۔ لیکن پھر اچانک ہی مجھے احساس ہوا کہ میں عیسائی نہیں رہنا چاہتا میری تلاش کچھ اور ہے“
یہ کہنا ہے عیسائی راہب سے اسلام کی جانب آنے والے کارلی کا جن کا اسلامی نام ہارون ہے۔ ہارون نے بتایا کہ وہ 43 برس کے ہیں اور انھوں نے چند سال قبل اسلام قبول کیا تھا جس کے بعد ان کے خاندان نے تو ان کی اس تبدیلی کو قبول کرلیا لیکن امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے گرنے کے بعد انھیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے واقعے کے بعد حالات بدل گئے
ہارون کہتے ہیں کہ ایف بی آئی نے ان کے اسلامی نام کی وجہ سے ان سے کڑی پوچھ تاچھ کی۔ لوگوں نے ان پر اسلحہ بھی تانا لیکن ان کے پاس صرف یہی جواب تھا کہ لا الہ اللہ۔۔ یہاں تک کہ نائن الیون کے بعد ان کے خاندان نے بھی انھیں طعنے دینا شروع کردیا کہ تم ہمارے خاندان کے لئے باعث شرم ہو لیکن ہارون کا جواب تھا کہ صرف اسلامی نام رکھ لینے سے کوئی مسلمان نہیں ہوجاتا۔ جنھوں نے یہ حملہ کیا ہے ان کا عمل قرآنی اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ہم مسلمان امن پھیلانے والے لوگ ہیں۔
جس خدا کی تلاش تھی وہ مجھے مل گیا
ہارون اب سعودی عرب میں رہتے ہیں اور اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے جس سچے راستے اور خدا کی تلاش تھی وہ مجھے مل گیا ہے۔