دوزخ کی آگ میں بننے والا پودا مکے میں کہاں اُگ گیا، زقوم کا پودا کھانے سے پیٹ میں کیا ہوتا ہے؟ وہ معلومات جو بہت کم لوگ جانتے ہیں، دیکھیے

image

اکثر سوشل میڈیا پر ایسے پھولوں، پودوں اور درختوں سے متعلق ایسی کئی معلومات موجود ہیں، جو کہ سب کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

ایک ایسا پودہ بھی سب کو خوف میں مبتلا کر رہا ہے، جو کہ دوزخ میں موجود ہوگا، سوچنے والی بات یہ بھی ہے کہ لاوے سے بھری، خوفناک، دل دہلا دینے والی دوزخ میں موجود یہ پودا، اپنی خصوصیات کی بنا پر سب کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔

قرآن مجید کی سورۃ دخان میں 43 سے 56 میں اس حوالے سے بتایا گیا ہے، ان آیات کے ترجمے کا مفہوم اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ اس پودے کو بطور کھانا دیا جائے گا، جبکہ ساتھ ہی کھولتا ہوا پانی بھی دیا جائے گا، جسے وہ پئیں گے۔

یہ پودہ گناہگاہوں کے پیٹ میں اس طرح ہوگا جیسے گرم پانی ابل رہا ہوتا ہے، اور پھر اس گناہگار کو مزید عذاب کے لیے جہنم کے بیچ و بیچ پھینکا جائے گا، اور پھر گرم کھولتا ہوا پانی اوپر سے ڈالا جائے گا۔

اس درخت نما پودے کی صورت کچھ اس طرح ہے، کہ اس میں آنکھیں بھی نظر آتی ہیں، ناک بھی اور منہ بھی۔ لیکن اس پودے میں شیطانی چہرے کی مماثلت ہے، جو اپنے دیکھنے والوں کو خوف میں مبتلا کر دیتی ہے۔

لیکن اگر ان پودوں کو غور سے دیکھا جائے تو یوں معلوم ہو رہے ہیں کہ جیسے یہ تکلیف سے چیخ رہے ہوں، ان کے انداز نے جہاں صارفین کو خوف میں مبتلا کیا وہیں جب قرآن مجید کا ترجمہ سامنے آتا ہے، تو خاموشی بھی چھا جاتی ہے۔

دوسری جانب اس پودے کو عربی زبان میں زقوم کہا جاتا ہے، جو کہ طائف شہر میں مکے سے 80 کلو میٹر دور موجود ہیں۔ یہ پودے ٹھنڈے پہاڑوں کے درمیان موجود ہیں، لیکن یہی وہ پودے ہوں گے، جو کہ جہنم میں گناہگاروں کی غذا بنیں گے۔

یہی وجہ ہے کہ اسے دوزخ کا پودا کہا جاتا ہے، جو کہ جہنم کی آگ اور عذاب کو مزید خوفناک بنا دیتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US