سوشل میڈیا پر ایسی کئی شخصیات ہیں، جو شہادت اور انتقال کے بعد زیادہ مقبول ہو گئیں، کچھ کی کہانی ہی ایسی تھی، جس نے سب کو افسردہ بھی کر دیا تھا۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
رحمٰن ملک:
سابق وزیر داخلہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنما جو کہ بے نظیر بھٹو کے بھی قریبی سمجھے جاتے تھے، وہ بھی رواں برس اس جہان فانی سے کوچ کر گئے تھے۔
رحمٰن ملک نہ صرف اپنے بیانیے کی وجہ سے مقبول تھے بلکہ طالبان کے حوالےسے بھی طاقتور نظریہ رکھتے تھے، جس کے باعث انہیں کئی بار دھمکیاں بھی ملیں، لیکن انہیں مقبولیت اُس وقت بھی خاصی ملی تھی جب یوٹیوب پر توہین رسالت کی ویڈیو کے معاملے پر پاکستان میں احتجاج ہوا تھا، جس کے بعد وہ بھی کافی حد تک تنقید کی زد میں تھے۔
رحمٰن ملک کی اچانک رحلت نے جہاں سب کو افسردہ کیا، وہیں صارفین کو حیران بھی کر دیا تھا۔
ارشد شریف:
صبح اٹھ کر جیسے ہی موبائل فون دیکھا تو معلوم ہوا کہ ارشد شریف کو قتل کر دیا گیا ہے۔ یہ جملہ ہر اُس شخص کے لبوں پر تھا جو کہ ارشد کو پہچانتا تھا۔
کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا بھی ہوگا اور روز رات 8 بجے پاکستانیوں ک ٹی وی اسکرین پر چھایا رہنے والا اس طرح چلا جائے گا۔
ارشد شریف کو دھمکیاں تو مل رہی تھیں، تاہم اس طرح ہوگا، کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا۔ شہید کی والدہ آج بھی بیٹے کو یاد کرتی ہیں، ان کے لیے یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، کیونکہ بڑا بیٹا بھی شہید ہو چکا ہے، شوہر بھی رخصت ہو گئے اور اب بیٹا بھی چلا گیا۔
اگرچہ گھر سونا ہو گیا ہے، تاہم ارشد کی والدہ نے پاکستانی ماؤں کو ایک واضح پیغام دیا ہے، کہ ماں ہونا آسان نہیں ہے، مگر ہمت اور حوصلہ آ ہی جاتا ہے۔
بلقیس ایدھی:
سادگی، ملنساری، خوش اخلاقی اور سماجی مدد کا ترجمان عبدالستار ایدھی ویسے تو دنیا بھر میں مقبول تھے، لیکن خیال تھا کہ ان کی رحلت کے بعد ایدھی فاؤنڈیشن بھی ختم ہو جائے گا۔
لیکن ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی نے جس طرح ایدھی فاؤنڈیشن کو سنبھالا تھا، وہ مثالی ہے، کیونکہ وہ خود بھی کافی عمر رسیدہ ہو چکی تھیں، لیکن اس کے باوجود بلقیس ایدھی نے ہمت نہ ہاری اور اپنے شوہر کے کام کو آگے بڑھایا۔
وہ کہتی تھیں کہ ایدھی صاحب نے ہم دونوں کے لیے قبریں مختص کر رکھی ہیں، جو کہ سہراب گوٹھ سے آگے موجود قبرستان میں ہیں، تاہم میں کہتی تھی کہ وہاں ان جان علاقے میں کون آئے گا فاتحہ کرنے، میں تو اپنی امی والے قبرستان میں ہی دفن ہوں گی۔
ایدھی صاحب اور ان کی اہلیہ کا شمار ان چند افراد میں ہوتا تھا، جن کی وفات پر عوام بھی روئی تھی، وہ لوگ بھی روئے تھے جن کا خونی رشتہ تک نہیں تھا۔ انہیں بھی یہ محسوس ہو رہا تھا کہ وہ ایک بار پھر یتیم ہو گئے ہیں۔س
رشید ناز:
مشہور پاکستانی اداکار رشید ناز کا شمار ان اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے عالمی طور پر پاکستان کی نمائندگی کی ہے، ہم میں سے بہت سے لوگ ان کی جاندار اداکاری کو پاکستانی فلم خدا کے لیے میں دیکھ چکے ہیں، جس میں انہوں نے ایک مولوی کا کردار نبھایا تھا۔
رشد ناز نے اپنی زندگی کے پہلے ناٹک کی کمائی بنگلادیش کے ضرورت مندوں کو دے دی تھی۔ رشید ناز بتاتے ہیں کہ چونکہ دوست وغیرہ بھی فلم انڈسٹری میں ڈائریکٹرز تھے تو انہی نے مجھے اداکاری کا مشورہ دیا تھا۔
اداکار کے خوش اخلاق، دلچسپ انداز سے ہر کوئی ان کا گرویدہ ہو جاتا تھا، ان کی وفات نے ان کے چاہنے والوں کو تو افسردہ کیا ہی، ساتھ صارفین کو بھی غمزدہ کر دیا تھا۔
جگجیت سنگھ:
مشہور بھارتی گلوکار جگجیت سنگھ کا شمار بھارت کے صف اول کے غزل گائیک اور گلوکاروں میں ہوتا ہے۔
جگجیت سنگھ اور ان کی اہلیہ چترا دونوں کی اپنی مدھم آواز کی بنا پر مقبول تھے تاہم جوڑے کی زندگی جہاں خوشگوار لمحات میں گھری تھی وہیں ان کی زندگی میں ایک ایسا غم آیا جس نے دونوں کو توڑ دیا تھا۔
1990 میں جگجیت اور چترا کا جواں سال بیٹا کار حادثے میں جاں بحق ہو گیا، بیٹے کے انتقال نے اس حد تک اثر ڈالا کہ جگجیت تو 6 ماہ تک سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنی اہلیہ کو سنبھالنے لگ گئے یہاں تک کہ خاموش بھی ہو گئے تھے۔ تاہم ان کی اہلیہ چترا بیٹے کی موت پر اس حد تک غمزدہ ہوئیں کہ بیٹے کی جدائی کے غم میں دماغی مریضہ بن گئی تھیں۔ چترا جو خود بھی گلوکارہ تھیں بیٹے کے بعد گانا تک بھول گئی تھیں۔
لیکن بیٹے کی جدائی کے بعد اگرچہ جگجیت سنگھ نے اہلیہ اور چترا سنگھ کی پہلی شادی سے ہونے والی بیٹی کو خود سنبھالا، لیکن سوتیلی بیٹی کی شادی ناکام ہونے پر اس نے دلبرداشتہ ہو کر اپنی جان لے لی، جس کے بعد شاید جینے کا مقصد بھی ختم ہو گیا تھا۔
مولوی عبدالوہاب:
امیر تبلیغی جماعت کے عہدے پر رہنے والے حاجی عبدالوہاب 2018 میں طویل علالت کے بعد رائیونڈ میں انتقال کر گئے تھے، تاہم ان سے متعلق مولوی فہیم صاحب نے ایک بیان فرمایا تھا، جسے سُن کر بہت سے چاہنے والے اشک بار ہو گئے تھے۔
مولوی فہیم صاحب نے اپنے ایک بیان میں حاجی عبدالوہاب کے واقعے سے متعلق بتایا تھا، حاجی صاحب کو بڑے بزرگ موت کا فرشتہ کہتے تھے، لیکن ایک مرتبہ موت کا فرشتہ حاجی صاحب کو واپس چھوڑ کر چلا گیا تھا۔
جب وہ اسپتال میں تھے تو ڈاکٹرز نے خیر خواہوں سے کہا کہ حاجی صاحب تو دنیا سے رخصت ہو گئے، ڈاکٹرز کو اس حد تک یقین تھا کہ انہوں نے حاجی صاحب کے انگوٹھے بھی باندھ دیے، پٹیاں بھی باندھ دیں، یہاں تک کے آنکھیں بھی بند کر دی تھی۔
حاجی صاحب کو لے جانے کا بھی انتظام ہو گیا تھا، مولوی فہیم بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ ان کے انتقال کے 35 سال پرانا ہے، ڈاکٹرز کو تقریبا 3 سے 4 منٹ ہوئے تھے جب وہ حاجی صاحب کے خاندان سے خبر شئیر کرنے آئے، لیکن جب ڈاکٹرز واپس اندر گئے تو دیکھ کر حیران رہ گئے حاجی صاحب کی آنکھیں کھلی ہیں جسے وہ خود بند کر کے گئے تھے۔
حاجی صاحب کو اس طرح دیکھ کر خود ڈاکٹرز بھی حیران تھے لیکن جب حاجی صاحب نے ڈاکٹرز سے کہا یہ سب کیا باندھا ہوا ہے مجھے، کھولو ان سب کو۔ تو ڈاکٹرز کی بھی جان میں جان آئی، حاجی صاحب نے بتایا کہ مجھے موت کے فرشتے لے گئے تھے، میں ان کا چہرا تو نہیں دیکھ سکا البتہ وہ مجھے جنت البقیع لے گئے۔
موت کے فرشتوں سے ان کا مکالمہ بھی ہوا حاجی صاحب نے پوچھا کہ تم مجھے کہا لے آئے ہو، فرشتوں سے ہونے والی یہ گفتگو مولوی فہیم صاحب نے اپنے بیان فرمائی۔
جنید جمشید:
مشہور نعت خواں اور سابق گلوکار جنید جمشید کا شمار پاکستان کی مقبول ترین شخصیات میں ہوتا تھا۔
ان کی ہوائی جہاز حادثے میں اچانک وفات نے ان کے چاہنے والوں کو افسردہ کر دیا تھا، تاہم اس سے بھی زیادہ تکلیف میں ان کی فیملی اور ان کے چاہنے والے اُس وقت ہوئے تھے، جب ان کی وفات کے بعد بھی کچھ لوگوں نے ان پر انگلیان اٹھائیں۔
دوسری جانب جنید جمشید اپنے اوپر توہین مذہب کے الزام پر بھی افسردہ ہو گئے تھے، جبکہ اپنی والدہ سے متعلق غلط باتوں پر بھی دکھی تھے۔ لیکن ان کی وفات نے پاکستانی صارفین کو بھی افسردہ کر دیا تھا۔
علی رضا عابدی:
کراچی کی مشہور اور مقبول شخصیت اور ایم کیو ایم کے رہنما علی رضا عابدی کو کراچی میں شہید کر دیا گیا تھا۔
46 سالہ رہنما نے ایم کیو ایم سے دوریاں اختیار کر لی تھیں، جس کے بعد وہ خبروں میں بھی نہیں تھے، لیکن جواں سال بیٹے جنازے کو دیکھنے والے بوڑھے والد کو دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار تھی۔
علی رضا عابدی کراچی کے سلجھے ہوئے باصلاحیت سیاست دانوں میں سے ایک تھے۔