دنیا میں ایسی کئی محبت کی داستان ہیں، جن میں اعتماد اور بھروسہ انسا کی زندگی بدل دیتا ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسے ہی پاکستانی فوجی جوان کی داستان کے بارے میں بتائیں گے۔
1940 میں جب پاکستان آزاد نہیں ہوا تھا تو ان دنوں جاپانی فوج اور برطانوی فوج کے مابین دوسری جنگ عظیم کے دوران یہاں سے بھی فوجی برطانوی فوج کا حصہ تھے کیونکہ اس وقت پاکستان نہیں بنا تھا۔
تاہم ان دنوں جب فوجی جوان سپاہی مظفر خان بھی جاپان کے خلاف برطانوی فوج کا حصہ تھا اور دوسری جنگ عظیم میں بطور فوجہ اہلکار اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا تھا۔
اسی دوران میانمار (برما) میں ایک گھرانہ ایسا تھا، جہاں جاپانی بمباری سے پورا گھر تباہ ہو چکا تھا، گھر والے زندہ دفن ہو چکے تھے لیکن ایک لڑکی ایسی تھی جو اس گھر کے پاس کھڑی تک رہی تھی کیونکہ اس لڑکی کا پورا گھرانہ ہلاک ہو چکا تھا۔
یہ لڑکی بنا کچھ سمجھے اور کہے فوج کیمپ میں موجود سپاہی مظفر خان نے اسے بھی ساتھ لے جانے کی استدعا کی، ایکسپریس ٹریبون کی جانب سے پبلش کیے گئے آرٹیکل میں بتایا گیا تھا، کہ سپاہی مظفر خان سے میانمار کی اس لڑکی نے یکطرفہ محبت کر لی تھی۔
جس کے بعد سپاہی اسے یہاں پنجاب کے علاقے دھودیال پہنچے جہاں دونوں نے شادی کر لی اور پھر زندگی کے آخری سفر تک وہیں رہنا شروع کیا۔
2015 میں پبلش ہونے والے آرٹیکل میں بتایا گیا کہ اس لڑکی نے سپاہی مظفر خان سے شادی سے پہلے اسلام قبول کیا اور اپنا نام بھی عائشہ بی بی رکھ لیا تھا، عائشہ بی بی 90 کی عمر میں بھی اپنے مرحوم شوہر کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے آتی تھیں۔
عائشہ بی بی کو اتنا ضرور یاد ہے کہ وہ اپنی والدہ کے ہمراہ چرچ جایا کرتی تھیں، لیکن والدین کے بعد سے وہ اب تنہا تھیں اور مظفر ہی ان کا سہارا تھا، جو کہ 2015 میں ہی انتقال کر گئے تھے۔ جس کے بعد وہ خاموش ہو گئی تھیں، ان کی زندگی کا مقصد بھی ایک طرح سے ختم ہو گیا تھا۔
عائشہ بی بی کو پنجابی زبان سکھانے میں، اردو سکھانے میں بھی شوہر نے مدد کی، جبکہ اسلام سے متعلق بھی شوہر ہی بتاتے تھے۔
عائشہ بی بی اور مظفر خان کی ایک محبت کی داستان میں نہ صرف خلوص تھا بلکہ اعتماد بھی تھا جس نے دونوں کو کامیاب جیون ساتھی بنا دیا، اگرچہ دونوں کی کوئی اولاد نہ تھی مگر پھر بھی دونوں کے چہرے کی مسکراہٹ ہی دونوں کا سکون تھا۔