کراچی میں ان دنوں لوٹ مار اور چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے، گھر سے نکلنے والے شخص کو یہ نہیں معلوم کہ وہ رات میں صحیح سلامت اپنے سامان اور جان کے ساتھ واپس گھر آئے گا بھی یا نہیں۔ ایسے میں عوام کی نظر گورنمنٹ اور تحفظ فراہم کرنے والے اداروں کی طرف اٹھتی ہے۔ لیکن اگر یہ خود ہی اس کا شکار ہوجائیں تو عوام کس سے امید رکھے؟
ایسا ہی کچھ کل کراچی شہر میں ہوا جہاں وزیرِ اعلیٰ سندہ کے پروٹوکول افسر کو ڈاکوؤں نے لوٹ لیا۔
تفصیلات کے مطابق، فیڈرل بی ایریا میں جوہر آباد تھانے کی حدود بلاک 9 رضیہ اسپتال ٹال والا اسٹاپ کے قریب ڈاکوؤں نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے پروٹوکول افسر، مسرور وارثی کو ان کے ساتھ کینیڈا سے آئے ہوئے مہمانوں سمیت کو لوٹ لیا۔
پولیس کے مطابق، ڈاکوؤں نے گزشتہ روز نئے سال کے موقع پر لوٹ مار کی، جہاں متاثرہ افراد میں وزیراعلیٰ سندھ کے پروٹوکول افسر مسرور وارثی سمیت 4 افراد شامل ہیں جن سے موبائل فون اور نقد رقم چھینی گئی۔
ڈاکو چائے کے ہوٹل پر بیٹھے ایک درجن سے زائد افراد کی جیبیں خالی کرا کے موبائل فون اور نقدی لے اُڑے۔ پولیس کے مطابق 2 موٹرسائیکلز پر سوار 4 مسلح ڈاکوؤں نے گلی کے کونے پر بنے ہوٹل پر یہ واردات کی۔
ایس ایچ او جوہرآباد انسپکٹر نے بتایا کہ واقعہ گزشتہ روز شام چار بجے پیش آیا۔
متاثرہ افراد نے واقعہ کے خلاف جوہر آباد تھانے میں درخواست جمع کرادی ہے، جس کے بعد اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
پولیس کا کہنا ہے جلد ہی ملزمان کو گرفتار کرلیا جائے گا ۔
عام شہری تو دور کی بات، کراچی میں وزیراعلیٰ کا پروٹوکول افسر بھی لُٹ گیا.