ہمارے یہاں کتنے ایسے لوگ ہیں جو پاکستان چھوڑ کر مغربی ممالک جانا چاہتے ہیں صرف اسلیئے تا کہ وہ ایک بہتر زندگی جی سکیں، لیکن کبھی کوئی یہ کیوں نہیں سوچتا کہ اپنے ملک کو ہی بہتر بنایا جائے؟ پر آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ ایک برطانوی خاتون نے ایسا سوچا اور اپنی پوری زندگی پاکستان کے بچوں کیلیئے وقف کردی۔
آئیے آپ کو بتاتے ہیں مریم ڈیل کی کہانی جو اس وقت سوات میں رہائش پذیر ہیں، ان کے اسلام قبول کرنے سے لے کر پاکستان آنے اور یہاں زندگی گزارنے تک کا سفر۔
عیسائیت سے مسلمان ہونے کا سفر:
18 سال کی عمر میں مریم، ایک تھائی آدمی سے محبت کی شادی کرنے کے بعد انگلینڈ سے بنکاک چلی گئیں لیکن سات سال بعد انکی طلاق ہو گئی اور وہ اپنے چھ سالہ بیٹے کو پیچھے چھوڑ کر دل شکستہ ہو کر برطانیہ واپس آ گئیں۔
غیر تسلی بخش ملازمتوں کے بعد، وہ اپنی بہن کے ساتھ یمن چلی گئی، جس نے ایک یمنی مسلمان سے شادی کی تھی، وہاں گزارے نو مہینوں نے ان کی زندگی بدل دی
مریم کہتی ہیں کہ، " مذہب تبدیل کرنے سے پہلے میں نے کبھی اسلام کے بارے میں نہیں سوچا تھا، لیکن اپنی بہن کے گھر رہ کر میں نے بہت کچھ دیکھا اور سیکھا پھر میں نے محسوس کیا کہ مجھے اپنی زندگی میں تبدیلی اور کچھ مختلف کرنے کی ضرورت ہے۔ میری زندگی اداس تھی، لیکن ایک بار جب میں نے مذہب تبدیل کر لیا تو سب کچھ پُر امن محسوس ہوا۔"
مریم اپنے خاندان کے ساتھ رہنے کے لیے برطانیہ واپس آئیں لیکن دونوں اپنے مختلف مذہبی عقائد پر جھگڑ پڑے۔ 1990 میں، وہ دبئی منتقل ہو گئیں۔
پٹھان مرد سے شادی کا فیصلہ:
کئی سال گزارنے کے بعد، مریم نے ظاہر شاہ سے شادی کا فیصلہ کیا جو وہاں ملازمت کرتے تھے۔دوستوں نے مجھے کہا کہ پٹھان سے شادی نہ کرو کیونکہ وہ گرم سر اور سخت ہوتے ہیں، لیکن ظاہر کالی داڑھی کے ساتھ شائستہ اور خوبصورت تھا۔
پاکستان آنے کے بعد:
اپنا ملک اور مذہب چھوڑ کر شادی کے بعد مریم سوات منتقل ہوگئیں اور یہاں گاؤں کے بچوں کو تعلیم دینے کے لیے اسکول کھول لیا۔
مریم نے بتایا کہ، میں 1970 میں مسلمان ہوچکی تھی۔ ظاہر شاہ سے شادی کے بعد جب میں سوات اپنے سسرال آئی تو یہاں مجھے میرے سسر نے اراضی تحفے میں دی۔
مجھے پہلے سے بچیوں کے لیے اسکول بنانے کی خواہش تھی، تو جب اپنے سسر صاحب سے اس خیال پر بات کی تو انہوں نے اسکول کے ساتھ مسجد بنانے کا بھی کہا تاکہ پہاڑی کے لوگوں کو عبادت کرنے میں آسانی رہے۔
وہ بتاتی ہیں کہ، میں نے 1996 میں اسلامک اسٹڈیز سینٹر کے نام پر اسکول کی بنیاد رکھی اور اسی کمرے سے اسکول کا آغاز کیا۔ یوں ہم نے علاقے کے بچوں کے لیے مفت تعلیم کا سلسلہ شروع کیا اور آج دسویں تک ہمارے پاس بچے اور بچیاں پڑھتے ہیں۔
مغربی ممالک جانے والوں کیلیئے مریم کا پیغام:
مریم کہتی ہیں کہ، یہاں سے بہت لوگ چاہتے ہیں جو یورپ جا کر رہنا چاہتے ہیں پر میرے خیال میں وہ درست نہیں، بہتر یہ ہے کہ وہ یہاں پڑھیں، تعلیم حاصل کریں اور یہاں اپنی صلاحیتیں استعمال کریں اور اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں، یہی میں چاہتی ہوں۔ اور ویسے بھی انگلینڈ کیوں جائیں؟ اسلام بھی ہمیں درس دیتا ہے کہ اپنے دین پر قائم رہوں اور مغربی طریقوں کو نہ اپناؤ۔