ہمارے معاشرے میں بے حسی کی انتہا حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ کوئی موٹا ہو یا پتلا، دُبلا ہو یا گونگا، جیسا بھی ہو ہم انسان ہی ایک دوسرے کو سکون کی زندگی گزارنے نہیں دیتے۔ ہم ایک دوسرے کو یہ اطمینان نہیں دلواتے کہ ہم جیسے ہیں ہم ٹھیک ہیں، بس ہم سامنے والوں کو ان کی خامیاں گنواتے ہیں جوکہ ایک بہت بڑی ناکامی یا اخلاقی کمزوری ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک اخبار فروش رحمت کی تصویر اور کہانی بہت وائرل ہو رہی ہے، ہر کوئی ان کے ساتھ اپنی ہمدردیاں ظاہر کر رہا ہے لیکن حقیقت میں وہ جن لوگوں کے قریب ہیں وہ لوگ ان کو ہر وقت ایک ایسے احساس میں مبتلا کر دیتے ہیں کہ رحمت خُدا سے شکایت کرنے پر مجبور ہیں۔
بچپن میں سویٹر پہنے ہوئے گیس سلینڈر کے قریب کھڑے تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا اور جھلس گئے، کسی نے ان کی مدد نہ کی اور یہ بُری طرح جھلس گئے، مگر ان کی ہمت کو داد دینی چاہیے کہ یہ ان حالات میں بھی حلال کی روزی اور رزق کے لیے آگے بڑھے اور ذریعہ معاش کے طور پر اخبار بیچنے شروع کیے۔
رحمت کہتے ہیں: "میں بھی انسان ہوں، لوگ چہرہ دیکھ کر کہتے ہیں یہ کیا؟ مجھے بھی اس خُدا نے بنایا جس کو آپ نے بنایا، لوگ چلتے پھرتے مذاق کرتے ہیں کیا میں مذاق کے لیے بنایا گیا ہوں میں بھی اسی نبی کا کلمہ پڑھتا ہوں جس کا تم پڑھتے ہو، میرے سرکار نے فرمایا مذاق نہ کرو میں بھی انسان ہوں، میں نے بھی اس بارگاہ میں جانا ہے جس میں تم کو جانا ہے"
سوشل میڈیا صارفین بھی رحمت کو خوب داد دے رہے ہیں اور ہر کوئی ان کی عظمت کو سلام کر رہا ہے۔ ہر انسان perfect نہیں ہوتا اور ہمیں اس بات کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس لفظ کا آخر مطلب کیا ہے؟ چور جس کے پاس 2 ہاتھ، 2 ٹانگیں، 2 پیر ہیں اور وہ دکھنے میں خوبصورت ہے مگر اس کے پاس کوئی ہنر نہیں صرف چوری چکاری کرنا اس کا کام ہے تو یہ اچھی بات ہے؟ لیکن جو شخص اپنی دن رات کی سچی محنت سے کام کر رہا ہے اس کے نقص کو محنت سے زیادہ اہمیت حاصل ہے؟
یہ ہماری سب سے بڑی ناکامی ہے، جس کا گلہ رحمت ہی نہیں بلکہ ان جیسے کئی محنت کش کرتے نظر آتے ہیں، آخر ہماری دنیا کب یہ بات تسلیم کرے گی کہ شکلوں اور صورتوں میں سکون نہیں بلکہ یہ صرف آپ کو ایک دوسرے سے جُدا کرتی ہیں، پہچان آپ کو آپ کے راستے، آپ کی محنت اور ہنر دیتے ہیں۔