ہمت اور محنت انسان کو کامیاب ہونے سے روک نہیں سکتی ہے، ایسا ہی کچھ ایک بھنگی کے بیٹے نے کیا ہے، جس نے سب کی توجہ حاصل کر لی۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
کہتے ہیں کہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا ہے، آج اگر مشکل ہے تو کل آسانی بھی آ سکتی ہے، ایسا ہی کچھ 29 سالہ نریش کے ساتھ ہوا ہے۔
نریش کے والد بھارت کے گاؤں کشملالے میں جھاڑو دینے کا کام کرتے ہیں، اکثر بھنگی اور جھاڑو دینے والے افراد کو معاشرے میں بری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، حالانکہ یہ ہمارے لیے ہمارے معاشرے کو صاف رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
حالانکہ یہ وہ گند صاف کرتے ہیں جو کہ ہم کود پھیلاتے ہیں، یعنی ہمارا گند یہ صاف کرتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ نریش کے والدین بھی کرتے ہیں، والد گاؤں میں جھاڑو لگاتے اور گند صاف کرتے ہیں جبکہ نریش کی والدہ سلوچنا ایک پروائیوٹ کمپنی میں جھاڑو لگا کر گھر کو سپورٹ کر رہی ہیں۔
ایسے میں بیٹے کی پڑھائی اور دیگر اخراجات کو سنبھالنا آسان نہیں ہوتا ہے، یہی وجہ تھی کہ نریش کو اس بات کا بالکل احساس تھا کہ اس کے لیے وقت کتنا اہمیت کا حامل ہے۔
شروع سے ہی سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کی اور پھر ویلفئیر کالج میں داخلہ لے کر مزید تعلیم کو مکمل کرنے والا نریش اس بات سے بخوبی واقف تھا کہ ان تمام مشکلات اور تکالیف کو وہ ایک دن ختم ضرور کر دے گا۔
نریش کا کہنا تھا کہ انہوں نے 3 سال سٹی بینک میں کام کیا اور پھر وہ اس قابل ہو گئے تھے کہ سول سروسز کا امتحان دے سکیں، اسی حوالے سے کوچنگ کلاسز لیں اور 2017 میں کے امتحانات میں بھی حصہ لیا، تاہم 2019 میں 782 رینک حاصل کیا، جبکہ ان کی پوسٹنگ ریلوے پرسل سروسز میں ہوئی۔
تاہم انہوں نے دوبارہ اسی امتحان میں حصہ لیا اور پانچھویں باری میں نریش نے 117 ویں پوزیشن حاصل کی۔ یوں اس طرح اب نریش ریلورے کے ادارے سے نکل کر بھارت کے اعلیٰ سرکاری عہدوں پر پہچنے والے ہیں۔
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ جھاڑو لگانے والے والدین کے دوسرے بیٹے بھی اسسٹنٹ کمشنر ٹیکس آفیسر کے طور پر منتخب ہوئے ہیں۔ والدین نے بچوں کو پڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور بچوں نے والدین کا سر فخر سے بلند کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔