کہیں آپ بھی سردیوں میں جعلی انڈے تو نہیں کھا رہے ؟ اصلی اور نقلی انڈے کی پہچان سمجھ لیں تاکہ آج ہی دکاندار کی چالاکی سے بچ سکیں

image

یہ بات بالکل درست ہے کہ آج مہنگائی کے اس دور میں دیگر اشیاء کے ساتھ ساتھ انڈے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن جن کا ناشتہ انڈے کے بغیر نامکمل ہوتا ہے وہ ہر صورت اس غذا کو استعمال کرتے ہیں۔

سردیوں میں انڈہ زیادہ کھایا جاتا ہے کیونکہ یہ جسم کو گرم رکھتا ہے اور کیونکہ اس کے بے شمار فوائد بھی موجود ہیں۔ لیکن کیا آپ جو انڈے خرید کر گھر لا رہے ہیں کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ اصلی ہیں یا نقلی؟

اصلی اور نقلی انڈوں کی پہچان کرنا ہر عام شخص کے لیے مشکل تھا جو اب زیادہ مشکل نہیں رہے گا کیونکہ آج ہم آپ کو وہ طریقہ بتائیں گے جس سے آپ با آسانی انڈوں کی دکان پر ہی پتہ لگانے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ وہ اصلی ہیں یا نقلی۔

مارکیٹوں میں ان دنوں بے ایمانی کا بازار سر گرم ہے۔ دکانوں میں کھلے عام کیمکل والے جعلی مضر صحت انڈے فروخت کیے جا رہے ہیں جو کھل انسانی صحت کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ذائقہ بھی اصلی انڈے کی طرح ہوتا ہے جو صحت کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ آیئے آپ کو بتاتے ہیں اصلی اور نقلی انڈے کی پہچان کے بارے میں۔

جعلی انڈے باہر ممالک سے پاکستان امپورٹ ہو رہے ہیں بلکہ اب تو یہاں بھی تیار کیے جانے لگے ہیں۔ انڈے کے چھلکے کو کیلشیم کاربونیٹ سے بنایا جاتا ہے،اس کے علاوہ انڈے کی زردی اور سفیدی کو سوڈیم سوڈیم ایلگنیٹ ، کیلشیم آکسائڈ پانی اور فوڈ کلر ڈال کر بنایا جا رہا ہے۔

یہ سارا مواد انسانی صحت کے لیے زہر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اصلی انڈے کے مقابلے نقلی انڈے کے بیرونی سوراخ زیادہ چمکدار اور چکنے محسوس ہوتے ہیں۔

اصلی انڈے میں ایک خاص قسم کی بو ہوتی ہے۔ اصلی انڈے کو ہلانے سے کوئی آواز سنائی نہیں دیتی جبکہ نقلی انڈے کو ہلانے سے ایسی آواز پیدا ہوتی ہے جیسے وہ کھوکلا ہو۔

نقلی انڈے کی سب سے عام پہچان یہ ہے کہ اسے توڑتے ہی سفیدی اور زردی ایک دوسرے سے مل جاتی ہے۔جبکہ اصلی انڈے کی زردی اور سفیدی الگ الگ رہتی ہے۔

اصلی انڈہ ابالے جانے کے بعد نیچے بیٹھ جاتا ہے اور نقلی انڈہ ابالنے کے بعد اوپر تیرنا شروع کر دیتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US