اکثر ہمارے آس پاس کچھ ایسی چیزیں ہوتی ہیں، جو کہ قابل استعمال تو ہوتی ہیں، لیکن یہ کس طرح مقبول ہوئیں یہ بہت کم لوگ جاتے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسے ہی مشہور بسکٹ کوکومو اور اس کے بانی سے متعلق دلچسپ معلومات فراہم کریں گے۔
COCOMO کا شمار پاکستان کی ان چند مشہور اور مقبول پراڈکٹس میں ہوتا ہے، جنہوں نے ہر دوسرے گھر میں مقبولیت حاصل کر لی۔
اپنے دلچسپ انداز اور مزے دار ذائقے کی بنا پر ہر دوسرے بچے کی پسند بنتے اس بسکٹ کی کہانی بھی کافی دلچسپ ہے، لال پیکٹ میں موجود کوکومو کے ہر بسکٹ کی صورت گول مٹول سی ہوتی ہے، جس کے اندر چاکلیٹ بھری ہوتی ہے۔
ایکسپریس ٹریبون کی جانب سے پبلش آرٹیکل میں بتایا گیا تھا کہ کوکومو 1988 میں مشہور کمپنی MEIJI کی جانب سے بنائی جاتی تھی، البتہ اُس وقت اس کا نام COCO Chums ہوا کرتا تھا۔
تاہم 1996 میں یہ کمپنی Bisconni کی جانب سے خرید لی گئی، جس کے بعداس مشہور بسکٹ کی شہرت آسمان کی بلندیوں کو چھو گئی کیونکہ اس کا نام بھی تبدیل ہو گیا اور کوکومو رکھ دیا گیا۔
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس بسکٹ کا نام ہی اس کی انفرادیت رکھتا ہے، اپنے دلچسپ نام اور پیکٹ کی وجہ سے اسے جیب میں بھی باآسانی رکھا جا سکتا ہے جبکہ چھوٹے بسکٹ ہونے کی وجہ سے کم عمر بچوں کو بھی کھلایا جا سکتا ہے۔
پراڈکٹ کوکومو اور اسماعیل انڈسٹریز کے بانی مفتاح اسماعیل ہیں۔ یہ کاروبار ان کا خاندانی کاروبار ہے، جسے اب مفتاح اسماعیل آگے لے کر بڑھ رہے ہیں۔ اپنی فیملی میں سلجھی ہوئی شخصیت کے طور پر ابھرنے والے مفتاح اسماعیل نے پاکستان کی سیاست میں بھی اپنا ایک خاص مقام حاصل کر لیا ہے۔
وہ وقت جب پاکستان کی سیاست میں بداخلاقی، بد تہذیبی زبان زد عام ہے، ایسے میں بااخلاق، باصلاحیت شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کا دھیما اور سلجھا ہوا انداز مخالف کو بھی ان کی تعریف کرنے پر آمادہ کر دیتا ہے۔
لیکن حال ہی میں ہونے والی مہنگائی اور عوام کی جانب سے کوکومو میں کم بسکٹ کے شکوے پر انہوں نے بھی ردعمل دے ہی دیا اور بتایا کہ کوکومو میں چار بسکٹ ہوتے ہیں، کیونکہ تھوڑا قصور عثمان بزدار صاحب کا ہے، انہوں نے گندم افغانستان اور سینٹرل ایشیائی ممالک اسمگل کر دیا اور عمران خان نے گندم کی قیمت بڑھا دی، تو آٹے کی میری کوسٹ ڈبل ہو گئی، تیل، چینی کی کوسٹ ڈبل ہو گئی، ہونا تو 10 روپے چاہیے، مگر ہم 5 روپے کی قیمت میں دے رہے ہیں۔
مفتاح اسماعیل کی اہلیہ بھی پڑھی لکھی اور باوقار گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ریما مفتاح اسماعیل نے صحافت کی ڈگری امریکی یونی ورسٹی سے حاصل کی ہے۔
دوسری جانب ان کے بیٹے عمر اسماعیل بھی سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتے ہیں۔ سماجی طور پر فعال رہنے والے عمر چیرٹی فار چینج کراچی کے صدر کے طور پر بھی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔