اس دنیا میں ایسی کئی کہانیاں اور داستانیں ہیں، جو کہ انسان کی زندگی میں ہوتی ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر موجود کچھ ایسے ہی کردار ہیں، جو کہ صارفین کو بھی رُلا گئے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
سوشل میڈیا پر ایک ایسی ہی بچی کی ویڈیو نے سب کو افسردہ کر دیا تھا جب ننھی پری کی بیماری کی ویڈیو صارفین کی نظر سے گزری۔
ہوا کچھ یوں کہ ننھی پری آؤئی چینی اور جاپانی نین نقش والی بچی تھی، جس کی ہر ادا اور شرارتیں سب کی توجہ حاصل کر لیتی تھیں۔
آؤئی اپنے والدین کی سب سے چہیتی اور محبوب اولاد تھی، شروعات میں والدین اور بیٹی لے درمیان محبت کا ایک عام سا رشتہ تھا، جو کہ ہر والدینکا ہوتا ہے۔
لیکن جب آؤئی 6 سال کی ہوئی تو بیٹی کی طبیعت خراب رہنے لگی اور پھر ڈاکٹر کے چیک اپ کے بعد اس بات کا علم ہوا کہ بیٹی کے دماغ میں ایک ایسی بیماری پیدا ہو گئی ہے، جس کے باعث اسے سانس لینے میں مشکل ہو رہی تھی۔
2012 میں آؤئی جسمانی طور پر پھولنے لگی تھی، یہ صورتحال والدین کو شدید تکلیف اور پریشانی میں مبتلا کر رہی تھی، ایسے میں والدین کا خیال تھا کہ ممکنہ طور پر بیٹی کی صحت بہتر ہو رہی ہے، لیکن یہ ایک خاموش طوفان کا پیغام تھا، جو ان سب کی زندگی کو بدلنے والا تھا۔
جب بیٹی میں Brainstem Glioma کی تشخیص ہوئی، یہ دراصل ایک قسم کا کینسر ہوتا ہے، جو کہ دماغ کے اس حصے پر ٹیومر کی صورت میں پیدا ہوتا ہے، جہاں سے انسان سانس لینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دیگر کام کر پاتا ہے۔
یہاں تک کہ اگر آؤئی کو مکمل طبی امداد بھی فراہم کی جائے تو بیٹی کے بچنے کے محض 50 فیصد امکان تھا۔ کیمو تھیرپی، ریڈیو تھیرپی سمیت کئی اہم طبی سہولیات فراہمکی گئیں لیکن بد قسمت والدین کا وہ ڈراؤنا خواب اصل ہونے کے قریب تھا اور بیٹی کا وقت بھی ختم ہونے کے قریب تھا۔
چھوٹے سے گھر میں بیٹی کے لیے سانس لینا بھی مشکل تھا، تاہم وہ کچھ کہے بغیر سب کچھ سہن کر رہی تھی، وہ اپنے والدین کو تکلیف میں نہیں دیکھ پا رہی تھی اور والدین اسے۔
اور پھر ڈاکٹرز کی ہدایت پر بیٹی کو دماغی طور پر کمزور بچوں کے کیئرنگ سینٹر منتقل کر دیا، جہاں اس کا خیال رکھا جانے لگا۔ سانس کا پائپ بھی لگایا گیا تاکہ اسے سانس لینے میں زیادہ مشکل نہ ہو۔
اگرچہ اس کیئرنگ سینٹر میں آؤئی کی حالت بہتر ہوئی مگر کچھ وقت کے لیے ہی، اور پھر دوبارہ سے حالت بگڑنے لگی۔ آؤئی کو شاید علم ہو گیا تھا، کہ اب وقت قریب آ رہا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے والدین سے آخری خواہش کا بھی اظہار کر دیا۔
کہا کہ وہ میرے ساتھ کچھ وقت ساتھ موجود ایکوائریم میں بتائیں، جہاں مصنوعی طور پر مچھلیوں کو رکھا جاتا ہے، ایک بڑے سے پانی کے جار میں۔
بیٹی کے ساتھ والدین خوشگوار لمحات بتا رہے تھے کہ اچانک آخر میں آؤئی ایک گہری نیند میں سو گئی، جس کے بعد وہ کبھی اٹھ نہیں پائی۔
آؤئی نے نہ صرف صارفین کو اشکبار کیا تھا، بکلہ والدین کو بھی مزید مضبوط اور جذباتی طور پر طاقتور بنا دیا تھا۔