اکثر چلتے پھرتے راستے میں کچھ ایسی چیزیں ٹکرا جاتی ہیں، جو کہ سب کو حیران کر جاتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسی ہی دلچسپ خبر اور تصاویر کے بارے میں بتائیں گے۔
لیکن ایک شخص ایسا بھی ہے جو کہ خود تو نیکی کما ہی رہا ہے، تاہم دوسروں کو بھی اسی طرف بلا رہا ہے۔
کراچی کی سڑک پر بس کو مسجد بنانے والا یہ ڈرائیور سب کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔
پیپلز بس سروس کی لال بس کا ڈرائیور اور کنڈیکٹر اپنے خلوص اور بااخلاق رویے کی بنا پر تو وائرل ہو ہی رہے ہیں، تاہم ان کا ایک ایسا انداز بھی مسافروں کو خوب بھا رہا ہے، جو کہ شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
گلشن حدید سے ٹاور کے روٹ پر چلنے والی مسافر بس کے ڈرائیور نے اچانک ڈھلتے سورج کو دیکھ کر اور اذان کی آواز کو سن کر شارع فیصل پر جناح اسپتال کے مقام پر بس اچانک روک دی۔
پل کے نیچے جب بس رکی تو مسافروں کو لگا کہ شاید بس اسٹاپ ہے، تاہم بس ڈرائیور اور کنڈیکٹر اچانک بس سے جلد بازی میں اتر گئے، تو مسافر بھی ڈر گئے، لیکن جیسے ہی بس سے باہر منہ نکال کر دیکھا تو بس ڈرائیور اور کنڈیکٹر دونوں نماز پڑھنے میں مگن ہیں۔
دونوں کی دیکھا دیکھ مسافر بھی کپڑے کو جائے نماز بنا کر اسی پر نماز پڑھنا شروع ہو گئے۔
اس عمل نے جہاں مسافروں کو حیران کیا وہیں خواتین بھی نمازیوں کو تکتی رہیں، جبکہ آس پاس سے روڈ پر گزرنے والا ٹریفک بھی اس منظر کو دیکھ کر دلچسپی لے رہا تھا۔
دراصل اس بس ڈرائیور کا یہ عمل بھی اپنے رب کے حضور شکر کا ایک نزرانہ ہی ہے، کیونکہ اس کے رب نے اسے اس مشکل وقت میں بھی روزی اور صحت مند زندگی بخشی ہے۔ یہ بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ پانچوں وقت اذان کی آواز پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔