کم عمر میں شادی کرنے کی تلقین ہمارا مذہب بھی کرتا ہے تاکہ ہم مختلف سماجی و معاشرتی بیماریوں سے بچے رہیں لیکن آج کل جس حساب سے مہنگائی بڑھ رہی ہے، نوکریوں کا فقدان پڑ رہا ہے ایسے حالات میں نوجوان نسل کے لیے جلدی شادی کرنا ایک مشکل ترین مرحلہ بن گیا ہے۔ ظاہر ہے والدین بچیوں کے مستقبل کی فکر میں ہیں اور اپنی بیٹیوں کو کم از کم اس گھر میں وداع کرنا چاہتے ہیں جہاں وہ سکھ چین کی روٹی کھا سکیں۔
بالکل اسی طرح یونیورسٹی آف پشاور کے طالبِ علم فہیم داور ہیں جنہوں نے جلدی شادی کرنے کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے اپنا یوٹیوب چینل کھول لیا تاکہ اس کمائی سے یہ اپنی شادی کرسکیں اور اپنا گھر چلا سکیں۔ یہ اصول قوانین کے طالبِ علم ہیں اور اپنی ویڈیوز میں اس سے متعلق معلومات فراہم کرکے لوگوں کو تعلیم دیتے ہیں۔
اس اقدام پر جہاں فہیم کے دوست سوشل میڈیا پر انہیں سرہا رہے ہیں وہیں کچھ لوگ تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ایسے تو ملک میں شادی کے خواہشمند ہزاروں نوجوان بیٹھے ہیں اب کیا وہ بھی یوٹیوب چینل کھول کر ویڈیوز بنا کر کام کرنا شروع کردیں اور محنت کرنا چھوڑ دیں۔ مثبت و منفی سوچ ہر شخص رکھتا ہے اور اپنی مرضی کی رائے کا اظہار کر رہا ہے لیکن اگر کوئی نوجوان اپنے حالات کو بہتر کرنے اور کم عمر میں شادی حلال طریقے سے کرنا چاہتا ہے اس کے لیے اپنی پڑھائی کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے ایک ذریعہ بن رہا ہے تو یہ قدم قابلِ تعریف ہے۔