“مجھے اسلام سیکھنا تھا اس لئے اپنا ملک بھی چھوڑ دیا۔ میں انڈونیشیا گیا تھا وہاں دیکھا کہ لوگوں کی داڑھی ہوتی ہے اور ٹوپی پہنتے ہیں۔ وہ ہم لوگوں سے کافی الگ تھے مگر جب میں ا کے ساتھ رہا تو پتا چلا کہ ٹوپی اور داڑھی مذہب کا حصہ ہے میں نے اسلام کو جاننا شروع کیا اور پھر الحمداللہ مسلمان ہوگیا“
یہ کہنا ہے مشہور کورئین گلوکار داؤد کم کا جنھوں نے اسلام قبول کر کے موسیقی چھوڑ دی اور اب مشہور یوٹیوبر ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے داؤد کم نے اپنے اسلام قبول کرنے کے بارے میں انٹرویو بھی دیا۔
پہلے کیا نام تھا؟
داؤد کم کہتے ہیں کہ وہ پیدائشی طور پر عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے اور تب ان کا نام ڈیوڈ تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انھوں نے اپنا نام ڈیوڈ سے تبدیل کر کے داؤد رکھ لیا کیوں کہ یہ ایک ہی پیغمبر کے نام ہیں۔
نماز سیکھنے کے لئے کیا کیا؟
کم داؤد کہتے ہیں کہ کورئین معاشرہ کافی تیز رفتار ہے وہاں سب کو کامیاب ہونے کی جلدی ہے اور جو کامیاب نہیں ہوتا وہ بہت پیچھے رہ جاتا ہے البتہ کوئی یہ نہیں جانتا کہ یہ سب کس لئے ہے۔ جب میں نے اسلام کو جاننا شروع کیا تو پہلی بار زندگی کا مقصد معلوم ہوا اور موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں پتا چلا۔ اب میں اپنی زندگی سے مطمئن ہوں۔ نماز اور وضو سیکھنے کے لئے انھوں نے امام مسجد سے مدد لی اور کافی عرصہ دل لگا کر ان سے نماز کا طریقہ سیکھا۔
خوش نصیب ہوں جو مسلمان ہوگیا
کچھ سال پہلے داؤد کم عمرہ بھی ادا کرچکے ہیں جس میں انھوں نے سب مسلمانوں کے لئے دعا کی ان کا کہنا تھا کہ میں خوش قسمت ہوں جو اللہ نے مجھے مسلمان ہونے اور اس کا گھر دیکھنے کا موقع عطا کیا۔ کورئین ہونے کے باوجود داؤد نے عربی زبان میں نماز کا طریقہ سیکھا ہے جس کی ویڈیوز بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔