پی ٹی وی کو وہ دور سب کو آج بھی یاد آتا ہے، جب سر پر دوپٹہ لیے خواتین اینکرز دھیمے لہجے میں خبرنامے کا آغاز کرتی تھیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو پی ٹی وی کے اسی سنہرے دور سے متعلق بتائیں گے۔
پی ٹی وی دیکھنے والے ناظرین آج بھی اس وقت کو یاد کرتے ہیں، جب قاری سید صداقت علی اپنی خوبصورت آواز میں قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
قاری صداقت ایک ایک آیت کی تلاوت اتنے دھیمے اور خوبصورت انداز کرتے تھے کہ سننے والا تمام کام روک کر تلاوت کو سنتا تھا، اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہوتا تھا کہ چھوٹے بچے، نوجوان نسل اور گھر یعنی ہر کوئی قرآن کی تلاوت سن رہا ہوتا تھا۔
اگرچہ اب بھی قاری صداقت پی ٹی وی پر دکھائی دیتے ہیں، تاہم دیگر چینلز کی نسبت اب پی ٹی وی کا وہ اثر و رسوخ نہیں رہا۔
اسی طرح وہ وقت بھی کافی دلچسپ تھا جب خواتین اینکرز کے سروں سے دوپٹہ ہٹتا نہیں تھا، ایسی ہی ایک اینکر تھیں ثریا شہاب۔
ثریا شہاب نے 1960 میں پاکستان ٹیلی ویژن بطور نیوز کاسٹر جوائن کیا تھا، یوں اس طرح ان کی زندگی میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا تھا، وہ اپنی صلاحیتوں کی بنا پر کامیابیاں سمیٹتی جا رہی تھیں۔
ریڈیو ایران زاہدان سے منسلک رہنے والی ثریا نے بی بی سی جیسے بڑے ادارے میں بھی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں، اور پھر جرمن ادارے ڈی ڈبلیو میں کام کرنے لگیں۔
لیکن ثریا شہاب چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہو گئیں تھیں، اگرچہ وہ اس کینسر کو شکست دینے کے لیے پُر امید تھیں، کینسر کے مرض کی سرجری کے لیے جرمنی گئیں، جہاں ڈاکٹرز نے دماغ تک پہنچنے والے کینسر کے سیلز کو نہ نکال سکے اور اس طرح وہ اس مرض کے علاوہ دماغی مرض الزائمر کا شکار بھی ہو گئیں، جس سے ان کی یاد داشت پر بھی اثر پڑا۔
2019 میں جہان فانی سے کوچ کرنے والی ثریا شہاب ایک اینکر ہی نہیں بلکہ شاعرہ اور افسانہ نگار بھی تھیں۔ مشہور نیوز کاسٹر اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھی اللہ کو یاد کرتی رہتی تھیں۔
یہ بھی ایک وقت تھا جب پی ٹی وی کا لوگو سب کی نظروں پر سمایا ہوا ہوتا تھا، ڈبے نما یہ ٹی وی 80، 70 کی دہائی کے لوگوں کی پرانی یاد ہے، جس نے انہیں اپنا ماضی خوب یاد دلایا۔
یہ وہ دور تھا جب یہ ٹی وی گھر میں لڑائی، جھگڑوں، بے حیائی کا باعث نہیں بنتا تھا، بلکہ سیر حاصل گفتگو اور اخلاقیات کا پرچار کرتا دکھائی دیتا تھا۔
لیکن اب ٹی وی کی جگہ بھی بڑے ایل سی ڈیز نے لے لی ہے۔