بیوی نابینا ہے پھر بھی دوسری شادی کرنے کا نہیں سوچا ۔۔ 30 سال سے آنکھوں کی بینائی سے محروم بیوی کا بوڑھا شوہر کس طرح اس کی دیکھ بھال کررہا ہے؟

image

پرانے دور کی محبت کی لازوال داستانیں تو سنی ہوں گی لیکن آج کی اس جیتی جاگتی زندہ محبت کی داستان سن کر اور ان کی مشکل زندگی دیکھ کر آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیں۔

ضلع بھکر کی تحصیل منکیرہ میں دو افراد پر مشتمل ایک غریب خاندان موجود ہے جن کا گزر بسر صرف چار سو سے پانچ سو میں بمشکل ہو رہا ہے۔ مذکورہ شخص کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ اس کی بیوی آنکھوں کی بینائی سے محروم ہے جس کا وہ 30 سال سے خیال رکھ رہا ہے۔ یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنی نابینا بوڑھی اہلیہ سے بہت پیار کرتا ہے جو اسے خود سے تھوڑی دیر کے لیے بھی الگ نہیں کریا۔

اس طویل عرصے میں اس کے ذہن میں دوسری شادی کا خیال آج تک نہیں آیا۔ ڈیجیٹل پاکستان کے ویب چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے غریب شخص عاشق حسین جن کی عمر 80 سال ہے نے بتایا کہ وہ ایک مشکل زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

عاشق حسین کی اہلیہ آج سے بیس پچیس سال قبل معذوری کا شکار ہوگئی تھی ساتھ ہی اس کی بینائی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا تھا جس کے بعد وہ اپنے شوہر کی زندگی بھر کے لیے محتاج ہو گئی۔ مگر اللہ نے اس کے شوہر کے دل میں جو رحم دلی اور محبت پیدا کی آج کے دور میں اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔

عاشق حسین ایک ایسے گھر میں رہتا ہے جس کی چھت کبھی بھی گر سکتی ہے۔ گھر کے اندر لکڑیاں پنکھے، اور تھوڑی بہت ضرورت کی چیزیں موجود ہیں جبکہ باہر ایک چارپائی رکھی ہے جس پر وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ دن گزارتا ہے۔

عاشق حسین کے پاس ایک گدھا گاڑی بھی ہے۔ صبح کے وقت جب وہ مزدوری کے لیے نکلتا ہے تو پیچے اپنی اہلیہ کو بھی بٹھا کر ساتھ لے جاتا ہے۔ عاشق حسین اور اس کی اہلیہ بے اولاد ہیں۔ رشتے دار ہیں مگر وہ ان کے پاس آکر خیر خبر تک نہیں لیتے۔

عاشق نے انٹرویو میں بتایا کہ اہلیہ ہر وقت بیمار رہتی ہے اور میری کوئی اولاد نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دن میں ریڑھی کا کام کرتا ہے اور پھر گھر واپس آجاتا ہے۔ غریب شخص نے بتایا کہ اس کے سارے پیسے بیوی کے علاج میں نکل جاتے ہیں۔ روٹی کبھی پوری ہوجاتی ہے تو کبھی نہیں ہوتی۔

عاشق حسین کی حکومت سے اپیل ہے کہ ہماری امداد کی جائے تاکہ ہم کوئی اپنا گھر بنا سکیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US