"ڈاکٹر نے جواب دے دیا تھا سب سمجھا رہے تھے لیکن مجھے یقین تھا میرا بیٹا کل تک ٹھیک ہوجائے گا. اسے آخری بار لائے میں تڑپ کر روتی رہی لیکن پھر بھی یقین نہیں آتا تھا. میں کہتی تھی اس کی قبر کھولو میرا بیٹا زندہ ہے. کئی مہینوں تک روزانہ قبرستان جاتی رہی. چین نہیں آتا تھا دل چاہتا تھا آنکھ کھلے اور اپنے بچے کی قبر پر پہنچ جاؤں"
یہ کہنا ہے معروف ہربلسٹ ڈاکٹر ام راحیل کا جنھوں نے اے آر وائی ڈیجیٹل کے پروگرام گڈ مارننگ پاکستان میں اپنی آپ بیتی سنائی اور بتایا کہ بیٹے کی موت کے بعد ان پر کیا گزری اور پھر انہوں نے مشکلات کا کیسے مقابلہ کیا۔
ڈاکٹر ام راحیل نے بتایا کہ شوہر کے خراب روہے پر بیٹا کہتا تھا امی کچھ دن اور پھر میں سب سنبھال لوں گا. میری 4 بیٹیاں ہیں اور ایک بیٹا تھا جس کا 12 برس کی عمر میں حادثے میں انتقال ہوگیا. یہ بچے میری کائنات تھے اور میری چوٹ پر مرہم پٹی بھی کرتے تھے.
میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ان میں سے کوئی بھی بچہ مجھے روتا چھوڑ کر کہیں جاسکتا ہے لیکن میرا جوان بیٹا دنیا چھوڑ کر چلا گیا، بیٹے کے قتل نے مجھے توڑ کر رکھ دیا. لیکن پھر میں نے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی کیونکہ میرے صبر کی طاقت تو بیٹا مجھے دیتا تھا۔ بیٹیاں کہتی تھیں امی کیا ہم آپ کے کچھ نہیں کیا بس راحیل ہی آپ کی اولاد تھا پھر مجھے دھیرے دھیرے اپنے آپ کو معمول پر لانا پڑا.