تنخواہوں میں 25، پنشن میں 22 فیصد اضافہ، کم از کم اجرت37 ہزار

image

اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہوگیا ہے ۔

وفاقی وزیرخزانہ محمداورنگزیب بجٹ25-2024پیش کر رہے ہیں، وزیرخزانہ نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا مالی سال25-2024 کا بجٹ پیش کرنا میرے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔

فروری 2024کے انتخابات کے بعد مخلوط حکومت کا یہ پہلا بجٹ ہے،نوازشریف نے پاکستان میں 1990 میں معاشی اصلاحات کی بنیاد رکھی،شہبازشریف کی قیادت میں معاشی مسائل حل کرکے ترقی کی رفتار بڑھائیں گے۔

کچھ عرصہ پہلے پاکستان کی معیشت کو مشکلات کاسامنا تھا،محض ایک سال میں روپے کی قدر میں 10فیصد کمی ہوئی تھی،سیاسی اور معاشی چیلنجز کے باوجود حکومت کی معاشی طور پر پیشرفت متاثر کن رہی۔

تمام اراکین سے گزارش کرتا ہوں معاشی ترقی کی راہ میں حکومت کی معاونت کریں،مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید متاثر ہوئی،تنخواہ دار طبقہ مہنگائی سے خاص طور پر متاثر ہوا ہے۔

حکومت مشکلات کا احساس کرتے ہوئے ریلیف کیلئے اقدامات کررہی ہے،آج قدر ت نے پاکستان کو ترقی کی راہ پر چلنے کاموقع دیا ہے،موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کیساتھ اسٹینڈ بائی معاہدہ کیاجس پر تعریف کرنی ہوگی۔

ملک میں مہنگائی کم ہوکر 12 فیصد پرآگئی ہے،آنے والے دنوں میں مہنگائی میں مزید کمی کے امکانات ہیں،ملک معاشی بحران کی صورت سے نکل چکا ہے،ملکی معشیت کو درست کرنے کیلئے دن رات محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیرخزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں مزید کہا کہ معاشی نظام کو عالمی معیشت کیساتھ چلنے کیلئے برآمدات کو فروغ دینا ہوگا،یہ وقت ہے اپنی معیشت میں پرائیویٹ سیکٹرکو اہمیت دیں،ماضی میں ریاست پر غیرضروری ذمہ داریوں کابوجھ ڈالا گیا۔

غیرضروری ذمہ داریوں کی وجہ سے حکومتی اخراجات ناقابل برداشت ہوگئے،ماضی کی غیرضروری ذمہ داریوں کی وجہ سے مہنگائی کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑا،زرمبادلہ ذخائر میں خاطرخواہ اضافہ اور افراط زر میں کمی ہوئی۔

اگست 2024کے پہلے ہفتے میں پی آئی اے کی نیلامی کا عمل مکمل ہوجائے گا،ہمیں ٹارگٹڈ ویلفیئر سسٹم کے ذریعے عوامی فلاح پر توجہ دینی ہوگی،ایسی سبسڈیز کو کم سے کم کرنا پڑے گا جو پرائس اور ایفی شینسی میں بگاڑ کا سبب بنتی ہیں۔

توانائی کی قیمت کو کم کرنے کیلئے پاور سیکٹر میں مارکیٹ پر مبنی اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے،ایک سال قبل افراط زر35فیصد تک پہنچ گیا تھا ،پیداواری صلاحیت میں بہتری لانے کیلئے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی۔

حکومتی اخراجات میں کمی مالیاتی خسارے کو کم کرنے کی حکمت عملی دوسراہم ستون ہے،ہم حکومتی غیرضروری اخراجات کم کرنے جارہے ہیں،حکومت پنشن کے نظام میں اصلاحات لارہی ہے۔کسان پیکج کے لئے 5ارب روپے رکھے جارہے ہیں،بجلی چوری کےخلاف مہم میں 50ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔

سرکاری ملازمین کیلئے اعلانات

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کررہے ہیں،1 سے 16 گریڈ کے سرکاری ملازمین کی قوت خرید بہتر بنانے کے لیے تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے،گریڈ 17 سے 22 گریڈ تک افسران کی تنخواہوں میں22 اضافے کی تجویز ہے۔

پنشن اور کم از کم ماہانہ اجرت

ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 22 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے،اسی طرح کم سے کم ماہانہ تنخواہ کو32 ہزار روپے سے بڑھا کر 37 ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔

بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام

بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کی رقم میں 27فیصد اضافے کیساتھ 593ارب روپے رکھے جارہے ہیں،بینظیر کفالت پروگرام میں افراد کی تعداد 93لاکھ سے بڑھاکر ایک کروڑ کی جائیگی،تعلیمی وضائف پروگرام میں 10لاکھ بچوں کا اندراج کیا جائے گا،نشوونما پروگرام میں مزید 5لاکھ خاندانوں کو شامل کیا جائے گا،بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کے تحت مالی خود مختاری کا سوشل پروگرام لایا جائیگا،بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کے تحت پہلی بارپاورٹی گریجویشن پروگرام بھی شروع ہوگا۔

گریڈ 1 سے 16 کی تمام خالی اسامیاں ختم

بی پی ایس 1سے 16 کی تمام خالی آسامیوں کو ختم کرنے کی تجویز زیرغور ہے،اسامیاں ختم کرنے سے 45ارب روپے کی سالانہ بچت ہوگی۔وزیر خزانہ نے کہا وفاقی حکومت پر کھربوں روپے کی پنشنز کے بقایاجات ہیں،پنشن اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے،پنشنز اخراجات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے،پنشن کے اخراجات کم کرنے کیلئے اسٹریٹجی ترتیب دی گئی ،جس پرمشاورت ہورہی ہے۔پنشن اسکیم میں اصلاحات لائی جائیں گی،نئے ملازمین کیلئے کنٹری بیوشن پنشن اسکیم لائی جارہی ہے،پنشن اسکیم سے سرکاری بل میں خاطرخواہ کمی واقع ہوگی۔


News Source   News Source Text

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US