تم عیاشیاں کرو، ہماری مائیں بہنیں دھکے کھائیں، اب یہ نہیں چلے گا، نعیم الرحمان

image

راولپنڈی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ تم عیاشیاں کرو، ہماری مائیں بہنیں دھکے کھائیں۔ اب یہ نہیں چلے گا۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 5 دن اس دھرنے کے مکمل ہوچکے ہیں اور یہ دھرنا پوری قوم کو ایک یقین سے ہمکنار کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا عذاب مسلط ہو چکا ہے اور بجلی کے بل ناقابل برداشت ہیں۔ آئی پی پیز عوام کا خون نچوڑ رہی ہیں لیکن حکمرانوں کو غریب اس وقت یاد آتے ہیں جب ووٹ لینا ہوتا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنے مطالبات پر قائم ہےاور قائم رہے گی۔ وزیر اعظم اعلان کریں کہ کوئی بڑی گاڑی استعمال نہیں کرے گا۔ ٹیکس غریب عوام دیتے ہیں اور مزے افسران کے ہوتے ہیں۔ کوئی بھی سرکاری افسر چھوٹی گاڑی چلانے کے لیے تیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرول نہیں ڈلوا سکتے تو چنگ چی اور بسوں میں دھکے کھاؤ۔ سرکاری افسر کو 1300 سی سی تک گاڑی رکھنے کی اجازت ہو اور افسران کے لیے مفت پیٹرول کی سہولت ختم کرنا ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں: بل غیر آئینی طریقے سے پاس کیے جا رہے ہیں، بیرسٹر گوہر

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وزیر اعظم کی قائم کردہ کمیٹی کو بتائیں گے ٹیکس کیسے وصول کرتے ہیں۔ اگر اپ لوگ چھوٹی گاڑی استعمال کرو گے تو اربوں روپے کی بچت ہو گی۔ وزیر اعظم سے کہتے ہیں اب حق دینا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکمران اپنی عیاشیاں بند کریں اور مراعات کم کریں۔ اب کسی کے لیے کوئی مفت پیٹرول نہیں ہو گا اور گاڑی چلانی ہے تو اپنی جیپ سے پیٹرول ڈالو۔ تم عیاشیاں کرو، ہماری مائیں بہنیں دھکے کھائیں۔ اب یہ نہیں چلے گا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حرکت میں برکت ہوتی ہے گھر بیٹھ کر مسائل حل نہیں ہوتے۔ ہم یہ دھرنا اس لیے دے رہے ہیں کہ حکومتی پراپیگنڈے کو سامنے لائیں۔ ہمیں بتایا جارہا ہے 9 ہزار ارب جو ہم سے کپیسٹی چارجز کی مد میں لیے جا رہے ہیں وہ تقدیر میں تھا۔ یہ سب جھوٹ بولا جارہا ہے اور تنخواہ دار پر نیا سلیب قابل قبول نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ 20 ایکڑ والوں پر معقول ٹیکس لگایا جائے تو تنخواہ داروں پر ٹیکس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔


News Source   News Source Text

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US