وفاق نے خیبر پختونخوا کے 55 ارب روپے روک لیے، صوبائی حکومت کا شدید ردعمل

image

وفاقی حکومت نے ری کنسیلی ایشن کے نام پر خیبر پختونخوا حکومت کو قابل تقسیم محاصل کی مد میں رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران واجب الادا 55 ارب روپے روک لیے ہیں، جس پر صوبائی حکومت نے معاملہ وفاق کے سامنے اٹھا دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ہر سال کی طرح اس مالی سال میں بھی وفاق صوبے کو ماہانہ بنیادوں پر قابل تقسیم محاصل کی ادائیگی کرتا ہے جس کی آخری تاریخ 30 ہر ماہ مقرر ہے۔ تاہم، وفاقی حکومت اپنا حساب کتاب 26 تاریخ تک مکمل کر لیتی ہے، جس کے نتیجے میں مہینے کے باقی 4 سے 5 دن کی رقم صوبے کو ادا نہیں کی جاتی اور وہ رقم روک لی جاتی ہے۔

محکمہ خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جولائی، اگست، ستمبر اور اکتوبر کی ادائیگیوں میں یہ روکی گئی رقم مجموعی طور پر 55 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ رقم 65 ارب روپے تھی، جس پر صوبائی حکومت نے وفاق کے ساتھ بات چیت کی اور 10 ارب روپے جاری کروائے گئے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ باقی 55 ارب روپے کی ادائیگی کے لیے معاملہ تمام متعلقہ فورمز پر اٹھایا جا چکا ہے اور اس پر بات چیت جاری ہے تاکہ صوبے کو بقایا رقم جلد فراہم کی جا سکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US