وفاقی وزیر اطلاعات کے خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی اور گورننس پر سنگین سوالات

image

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک میں پھیلائی جانے والی افواہوں کو ’’منظم سازش‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا ملک دشمن عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے سینئر صحافیوں کو ملکی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی، جبکہ افغانستان سے دراندازی روکنے کے لیے پاک فوج بھرپور کارروائیاں کر رہی ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی کمزوریاں دراندازی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی بڑی وجہ ہیں۔

عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مقدمات پر بات کرتے ہوئے کہاکہ صوبے میں 4 ہزار سے زائد دہشت گردی کے کیسز میں فردِ جرم تک عائد نہیں ہو سکی، پچھلے 12 سالوں میں مؤثر پراسیکیوشن سسٹم نہیں بنایا گیا، وزیراعلیٰ کے پی کے کو اڈیالہ جیل کے باہر نعرے لگانے آتے ہیں لیکن پراسیکیوشن کے سپیلنگ نہیں آتے، صوبائی حکومت کی قانونی صلاحیت صفر ہے، اسی وجہ سے ہزاروں کیسز زیرِ التواء ہیں۔ وزیر اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف مقدمات بنتے ہیں لیکن صوبے میں ٹرائل کی اہلیت موجود نہیں، جو نہایت افسوسناک ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساڑھے 12 سالہ دور میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا مسئلہ حل نہیں ہوا، خیبر پختونخوا دنیا کا واحد صوبہ ہے جہاں ہزاروں این سی پی گاڑیاں کھلے عام چلتی ہیں، ضلعی انتظامیہ خود این سی پی پلیٹس کی اجازت دیتی ہے، بشام کے حساس واقعے میں بھی نان کسٹم پیڈ گاڑی استعمال ہوئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو چیک کرنا فوج کا کام ہے یا صوبائی حکومت کا؟‘‘

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں منشیات کی تجارت اور سمگلنگ صوبائی حکومت کی آشیر باد سے جاری ہے۔ جنوری تا اگست 2025 میں 10 ہزار سے زائد ڈرگ ٹریفکنگ کیسز رجسٹر ہوئے۔ ان میں سے صرف 679 کیسز میں سزا سنائی گئی۔

وزیر اطلاعات نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ اور ان کے لوگ ڈرگ کارٹلز سے جڑے ہیں اور ایک ’’پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسس‘‘ مسلسل رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ عطا اللہ تارڑ کے مطابق نان کسٹم پیڈ گاڑیاں رجسٹرڈ ہوں تو 800 ارب روپے سالانہ قومی خزانے میں آ سکتے ہیں، ٹوبیکو مافیا ٹیکس دینا شروع کرے تو 500 ارب روپے تک اکٹھے ہوسکتے ہیں، خیبر پختونخوا میں یہ پیسہ دہشت گردوں اور سیاسی شخصیات کی جیبوں میں جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی اصلاحات کو عالمی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے جبکہ ’’ایک طرف وزیراعظم شہباز شریف ریفارمز لا رہے ہیں اور دوسری طرف کے پی حکومت پہاڑ کاٹ رہی ہے اور مافیاز کو پروان چڑھا رہی ہے۔‘‘

وفاقی وزیر نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، اسلام آباد جی الیون کچہری حملے میں بھی افغانستان ملوث ہے۔ خودکش بمبار اور ہینڈلر کی ٹریننگ افغانستان میں ہوئی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی حکومت نے اس حملے کی مذمت تک نہیں کی۔

عطا اللہ تارڑ نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی افغان حکومت کی ترجمان بنی ہوئی ہے، محمود خان اچکزئی نے اسمبلی میں دھماکے کے فوراً بعد ’’کابل کابل‘‘ کا ذکر کیا۔ نورین خان نیازی بھارتی میڈیا پر جا کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’پی ٹی آئی کے لیے پاکستان کا مفاد کوئی معنی نہیں رکھتا، یہ انڈین چینلز پر جا کر ملک کو بدنام کرتے ہیں۔‘‘

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بہنیں 9 مئی کو کور کمانڈر ہاؤس میں موجود تھیں، ان کی موجودگی ثابت ہے، 9 مئی کے منصوبہ ساز اور سہولت کار قانون کے کٹہرے میں لائے جائیں گے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاک فوج ہر دراندازی کا بھرپور جواب دیتی ہے، دہشت گرد بھاگ کر اپنا سامان چھوڑ جاتے ہیں۔ انہوں نے فوج اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US