ایران میں جاری پُرتشدد مظاہرے 13ویں روز بھی شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں مختلف واقعات میں 15 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرے ملک کے تمام 31 صوبوں تک پھیل چکے ہیں، اس دوران مظاہرین کی جانب سے عوامی اور سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے تہران کے قریب ایک قصبے سے 100 مسلح فسادیوں کو گرفتار کیا ہے، جبکہ ملک بھر میں اب تک ڈھائی ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ مسلسل تیسرے روز بھی ایران میں انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ملکی دفاع کو سرخ لکیر قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ دوسری جانب ایرانی فوج نے ہر سازش ناکام بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی میڈیا پر جاری بیان میں فوج نے کہا ہے کہ وہ کمانڈر انچیف کی قیادت میں خطے میں دشمن کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ بیان میں قومی مفادات اور عوامی املاک کے تحفظ کے عزم کو بھی دہرایا گیا۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ برس کی 12 روزہ جنگ میں ایرانی بچوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے عناصر ہی موجودہ فسادات کی سازش میں ملوث ہیں۔