وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق اہم کیس کی سماعت کے دوران وکلا نے کہا کہ زیادہ ٹیکس کے باعث سرمایہ کار اور کاروباری افراد پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ بعض شعبوں پر 55 فیصد سے زائد ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جو کاروباری سرگرمیوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
وکلا نے عدالت کو بتایا کہ بھاری ٹیکس بوجھ کے سبب کاروباری شخصیات دبئی اور دیگر ممالک کا رخ کر رہی ہیں جہاں ٹیکس کی شرح کم اور کاروباری ماحول سازگار ہے۔ انہوں نے ہائیکورٹ کے سابقہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ 15 فیصد سے زیادہ ٹیکس وصول نہیں کیا جا سکتا، مگر سپر ٹیکس کے نام پر غیر آئینی وصولیاں جاری ہیں۔
وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ بھاری ٹیکسز کو غیر آئینی قرار دیا جائے تاکہ ملک سے سرمائے کے انخلا کو روکا جا سکے اور کاروباری طبقے کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت کے لیے ملتوی کر دیا۔