وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کی زیر صدارت پورٹ قاسم میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں پورٹ قاسم کی مستقبل کی ترقی اور صنعتی توسیع سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر نے پورٹ قاسم کے لیے کلائمیٹ ریزیلینٹ انڈسٹریل کمپلیکس کے طویل المدتی منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پورٹ قاسم کو عالمی معیار کا صنعتی اور لاجسٹک مرکز بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پورٹ قاسم مستقبل میں پاکستان کی قومی معیشت کا ایک مضبوط اور مؤثر گیٹ وے بنے گا۔
محمد جنید انوار چوہدری نے بتایا کہ پورٹ قاسم کا ترقیاتی منصوبہ 14 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر محیط ہے اور اس انڈسٹریل کمپلیکس کو تین مختلف زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ مشرقی زون ہیوی انڈسٹری اور ایکسپورٹ یونٹس کے لیے مختص ہوگا، شمال مغربی زون میں ویلیو ایڈڈ انڈسٹری اور پورٹ سروسز کے فروغ پر توجہ دی جائے گی، جبکہ جنوبی مغربی زون میں خصوصی صنعتی اور کمرشل سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس وقت پورٹ قاسم میں 833 صنعتی یونٹس فعال ہیں جبکہ 40 یونٹس زیر تعمیر ہیں، جو اس کی صنعتی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پورٹ قاسم محض ایک بندرگاہ نہیں بلکہ ایک متحرک صنعتی ایکو سسٹم ہے جو سپلائی چین اور برآمدات میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
اجلاس میں پورٹ انفراسٹرکچر کی جدید کاری، سڑکوں اور ریلوے کنیکٹیوٹی کو بہتر بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پورٹ قاسم انڈسٹریل کمپلیکس روزگار کے مواقع، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار ترقی کا ایک بڑا مرکز بنے گا۔