پاکستان میں مرچنٹ نیوی کا شعبہ: ’ہوش سنبھالا تو سمجھ آیا اس فیلڈ کے اندر تو پیسہ ہی پیسہ ہے‘

پاکستان میں نوجوان اس شعبے میں کیسے داخل ہو سکتے ہیں، اس کے لیے انھیں کیا کرنا پڑے گا اور اس پیشے میں کتنی تنخواہ ملتی ہے

پچھلی کچھ دہائیوں میں سمندری جہازوں میں کارگو کنٹینرز کے استعمال میں بہتری، ترقی پذیر معیشتوں کے عروج اور پیداوار اور کھپت کے طریقوں میں تبدیلی کے باعث تجارتی جہاز رانی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے گذشتہ برس جاری اعداد و شمار کے مطابق، دنیا میں تقریباً 80 فیصد تجارت سمندری راستوں سے ہوتی ہے اور لاکھوں افراد اس شعبے سے منسلک ہیں۔

مسافر اور کمرشل بحری جہازوں پر مشتمل عالمی تجارتی جہاز رانی کی اس صنعت کو ’مرچنٹ نیوی‘ کہتے ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ایک ایسا پیشہ یا کیریئر ہے جس میں آمدنی کے مواقع دوسری شعبوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔

آج کی تحریر میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ پاکستان میں نوجوان اس شعبے میں کیسے داخل ہو سکتے ہیں، اس کے لیے انھیں کیا کرنا پڑے گا اور اس پیشے میں کتنی تنخواہ ملتی ہے۔

مرچنٹ نیوی میں شمولیت کیسے ہوتی ہے؟

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے پاکستان میں مرچنٹ نیوی کی تربیت دینے والے سرکاری ادارے پاکستان میرین اکیڈمی (پی ایم اے) کے کیڈٹ ایڈمن افسر کمانڈر محمد سعید بتاتے ہیں کہ ہر سال جولائی کے مہینے میں نئے داخلوں کے لیے اشتہارات دیے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ داخلے کے لیے شرط ہے کہ امیدوار نے انٹر پری انجینئرنگ میں کم از کم 55 فیصد نمبر حاصل کیے ہوں اور جس سال داخلہ لینا ہو، اس سال 31 دسمبر کو اس کی عمر 20 سال سے زائد نہ ہو۔ تاہم صوبہ بلوچستان، خیبر پختونخوا کے انضمام شدہ اضلاع (فاٹا) اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والوں کے لیے عمر کی حد 21 سال ہے۔

محمد سعید کے مطابق، پی ایم اے ناٹیکل سائنس اور میرین انجینئرنگ میں دو سال کا ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کرواتا ہے جو کہ چار سیمسٹرز پر مشتمل ہوتا ہے اور کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی سے منسلک ہے۔

کورس کے دوران طالبعلم جنھیں کیڈٹس کہا جاتا ہے کیمپس میں ہی رہتے ہیں۔

محمد سعید بتاتے ہیں کہ ان کیڈٹس کی روٹین کسی بھی مسلح ادارے کے کیڈٹس کی طرح صبح 5 سے رات 10 بجے تک کی ہے جس کا مقصد انھیں ڈسپلن کا عادی بنانا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کیونکہ یہ کیڈٹس پاس آؤٹ ہونے کے بعد طویل عرصوں کے لیے جہازوں پر تعینات رہتے ہیں تو ان کے لیے نظم و نسق انتہائی ضروری ہوتا ہے۔

محمد سعید کے مطابق، اس کے علاوہ ادارہ جنرل پرپز کریو (جی پی تھری) کا ایک کورس بھی کرواتا ہے جس میں میٹرک کے بعد داخلہ لیا جا سکتا ہے۔

اس کورس کے بعد سیلرز جہازوں پر تعینات ہوتے ہیں۔

تاہم یہ کورس گذشتہ کچھ عرصے سے نہیں کروایا جا رہا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کورس کے کیڈٹس کی مارکیٹ میں بہت مانگ ہے اور اسے دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

پاکستان میرین اکیڈمی کے مطابق، اب تک اکیڈمی سے 4100 سے زائد کیڈٹس اور 2400 سیلرز پاس آؤٹ ہو چکے ہیں جبکہ کیڈٹس کے 63ویں اور 64ویں بیچ کی تربیت ہو رہی ہے۔

محمد سعید کہتے ہیں کہ دورانِ تربیت ایک چیز جسے بالکل برداشت نہیں کیا جاتا وہ ڈسپلن کی خلاف ورزی اور نقل ہے۔ ان کے مطابق، اگر ایسا کوئی معاملہ سامنے آتا ہے، بورڈ آف انکوائری ہوتی ہے اور الزام ثابت ہونے پر کیڈٹ کو اکیڈمی سے نکال دیا جاتا ہے۔

نوکری اور ترقی کے مواقع

کیڈٹ ایڈمن افسر کمانڈر محمد سعید بتاتے ہیں کہ کورس کی تکمیل کے بعد ادارہ نوکری تو مہیا نہیں کرتا تاہم بین الاقوامی کمپنیوں سے کیڈٹس کا رابطہ کروا دیا جاتا ہے جو ان کیڈٹس کو ہائر کر لیتے ہیں۔

کورس مکمل ہونے پر ناٹیکل سائنس کے کیڈٹس ایک سال کی واچ کیپ ٹریننگ پر جاتے ہیں جبکہ میرین انجینئرنگ کیڈٹس کی ورکشاپ ٹریننگ ہوتی ہے۔

ان کے مطابق، جہاز پر تعینات نئے کیڈٹ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 350 امریکی ڈالرز مقرر ہے تاہم اکثر مسابقت کی وجہ سے انھیں اس سے زیادہ ہی تنخواہ ملتی ہے۔

محمد سعید کا کہنا ہے کہ کیڈٹس ایک امتحان دیتے ہیں جو مرکنٹائل میرین ڈیپارٹمنٹ لیتا ہے۔ اس امتحان میں کے لیے پاکستان میرین اکیڈمی انھیں سمیولیٹر پر ٹریننگ دیتی ہے جو ملک میں صرف اکیڈمی کے پاس ہی ہے۔

امتحان میں کامیابی کی صورت میں کے بعد سیکنڈ افسر کے رینک میں ترقی ہو جاتی ہے جس کی کم از کم تنخواہ 1500 امریکی ڈالرز ہے۔

ناٹیکل سائنس کیڈٹ ترقی کر کے کپتان کے عہدے تک پہنچ سکتے ہیں اور اس عہدے کی کم از کم تنخواہ 15 ہزار ڈالر ہوتی ہے جبکہ انجینیئرنگ کیڈٹس چیف انجینیئر بن جاتے ہیں۔

’ہوش سنبھالا تو سمجھ آیا اس فیلڈ کے اندر تو پیسہ ہی پیسہ ہے‘

مرچنٹ نیوی کے شعبے سے وابستہ محمد عاشر بتاتے ہیں کہ ان کے ماموں بھی اس ہی شعبے سے وابستہ تھے اور انھیں دیکھ کر ان میں مرچنٹ نیوی میں شامل ہونے کی خواہش پیدا ہوئی۔

'میرے ماموں کپتان تھے۔ بچپن میں دیکھتا تھا کہ وہ آتے تھے تو بیگم کو کبھی گھمانے یورپ لے جا رہے ہیں تو کبھی کہیں۔ آہستہ آہستہ جب ہوش سنبھالا تو سمجھ آیا کہ میرین فیلڈ کے اندر تو پیسہ ہی پیسہ ہے۔'

وہ کہتے ہیں انھوں نے جنرل پرپز کریو یا جی پی تھری کا کورس کیا اور جہاز کے ڈیک (عرشے) پر کام کرنے لگے۔

وہ بتاتے ہیں کہ مرچنٹ نیوی کے بعد آپ تجارتی اور مسافر بردار (کروز) جہازوں کے علاوہ ایسے شپس پر بھی کام مل جاتا ہے جو سمندر سے تیل نکالنے والی تنصیبات کی دیکھ بھال کا کام کرتی ہیں جو آف شور کہلاتی ہیں اور انھیں جی پی تھری کرنے کے بعد ایسے ہی ایک جہاز پر نوکری مل گئی۔

عاشر بتاتے ہیں کہ عام طور تجارتی جہازوں پر سیلرز کا نو ماہ جبکہ افسروں کا پانچ ماہ کا کانٹریکٹ ہوتا ہے جس کے بعد وہ چھٹی پر جاتے جبکہ تیل کی تنصیبات کی دیکھ بھال کرنے والے جہازوں پر عملے کا پانچ اور افسران کا سہ ماہی کانٹریکٹ ہوتا ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات ایک کانٹریکٹ کے ختم ہونے بعد دوسرا حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں اکثر کام حاصل کرنے کے لیے ایجنٹس کو بھاری معاوضہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ 'وہ دو سے تین ہزاد ڈالر لیتے ہیں، ایک غریب آدمی کیسے دے گا؟'

وہ بتاتے ہیں کہ اس کے علاوہ آف شور کمپنیوں مستقل بنیادوں پر بھی ملازمین رکھتے ہیں۔

عاشر شکایت کرتے ہیں کہ پاکستان میں اس شعبے میں بہت کم مواقع دستیاب ہیں اور وہ خود بھی بین الاقوامی کمپنی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

سمندر میں کام کرنے کے دوران پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ جب سمندر میں طوفان یا موسم ناسازگار ہوتا ہے تو ’سی سکنس‘ ہو جاتی ہے۔ کچھ برداشت کر پاتے ہیں اور کچھ نہیں پاتے۔

’اس کے علاوہ کبھی کبھار دوسرا کریو نہ آنے کے باعث آپ کی چھٹی میں ایک دو ہفتے تاخیر ہو جاتی ہے جبکہ کچھ لوگ طویل عرصے تک اپنوں سے رابطہ نہ ہونے کے باعث ذہنی دباؤ کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔‘

لیکن وہ کہتے ہیں کہ ان کا اب تک مجموعی تجربہ بہت اچھا رہا ہے اور اس شعبے میں کام کرنے والے ایسے نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں جو شاید بصورت دیگر ممکن نہ ہو۔

وہ حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ شپنگ انڈسٹری کی بہتری کے لیے کام کیا جائے تاکہ ملک میں جو سیلرز بیروزگار ہیں انھیں بھی کام مل سکے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US