کراچی کے گُل پلازہ میں آتشزدگی: چھ ہلاک اور 50 سے زائد لاپتا، ’بھائی نے ماں کو بھی فون کیا کہ کوئی مجھے آگ سے بچا لے‘

سندھ میں ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان الحسیب نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ صدر میں واقع 8000 مربع گز پر محیط عمارتوں میں لگنے والی ’آگ انتہائی شدید ہے اور اسے بجھانے کا عمل پورا ہونے میں ایک سے دو دن لگ سکتے ہیں۔‘
EPA
EPA

’ریسکیو کا جو کام ہوتا ہے وہ شروع کے گھنٹوں میں ہی ہوتا ہے۔ یہ چھ گھنٹے تک انتظار ہی کرتے رہے۔۔ شروع میں آگ صرف دو داخلی دروازوں تک محدود تھی، یہ شروع میں اندر داخل ہو سکتے تھے لیکن انھوں نے دیر کی۔‘

یہ کہنا ہے زین نامی دکاندار کا جو کراچی کے گُل پلازے میں لگنے والی آگ کے بعد ریسکیو اداروں کی کارکردگی پر سوال اُٹھا رہے تھے۔

واضح رہے کہ سنیچر کی شب کراچی کے علاقے صدر میں واقع گُل پلازہ میں لگنے والی آگ سے اب تک کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے ایک فائر فائٹر سمیت چھ افراد کی ہلاکت اور 20سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

ہلاک ہونے والے چھ افراد میں سے چار کی شناخت بھی کر لی گئی ہے جبکہ ڈسٹرکٹ آفس ساؤتھ کی ہیلپ ڈیسک پر 34 لاپتا افراد کے متعلق شکایات موصول ہوئی ہیں۔

دوسری جانب اتوار کی شام وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں میڈیا سے بات چیت میں کہا ہے کہ ’58 کے قریب لوگ لاپتا ہیں، اللہ کرے لاپتا لوگ مل جائیں۔ ابھی تک کی معلومات کے مطابق چھ لوگوں کی جانیں گئی ہیں، جس میں ایک کے ایم سی کا فائرفائٹر بھی ہے۔ اس وقت سب زخمیوں کو طبی امداد دے کر گھر روانہ کردیا گیا ہے۔‘

مراد علی شاہ کے مطابق یہ بیسمنٹ گرائونڈ اور تین منزلہ عمارت تھی اور یہاں تقریباً ایک ہزار سے زائد دکانیں تھیں۔ ان کے مطابق ’ فائر فائٹرزکو اندر جانےکی جگہ نہیں مل رہی تھی، جس کی وجہ سے نقصانات میں اضافہ ہوا۔‘

دوسری جانب دکانداروں نے لوگوں کے اندر پھنسے ہونے کے خدشے کا بھی اظہار کیا ہے۔

EPA
EPA
حکام کا کہنا ہے کہ کراچی کے پلازے میں لگنے والی آگ سے اب تک چھ افراد ہلاک جب کہ 20 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے

سندھ میں ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان الحسیب نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ صدر میں واقع 8000 مربع گز پر محیط عمارتوں میں لگنے والی ’آگ انتہائی شدید ہے اور اسے بجھانے کا عمل پورا ہونے میں ایک سے دو دن لگ سکتے ہیں۔‘

ریسکیو 1122 کے ترجمان نے مزید بتایا کہ گل پلازہ میں 1200 دکانیں ہیں اور ان میں جلدی آگ پکڑنے والا سامان، جیسے کہ پلاسٹک فوم، کپڑا، قالین اور پرفیوم وغیرہ موجود ہیں۔

حسان الحسیب کے مطابق عمارت انتہائی پرانی ہے اور آگ سے اس کے گرنے کا خدشہ بھی موجود ہے، اس وجہ سے ریسکیو آپریشن غیر معمولی احتیاط سے کیا جا رہا ہے۔

ریسکیو 1122 کے ساتھ ساتھ کے ایم سی اور پاکستان نیوی کے فائر فائٹرز بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انھیں ریسکیو حکام نے بتایا ہے کہ آگ بجھانے کے عمل میں مزید پانچ سے گھنٹے لگ سکتے ہیں اور اس کے بعد کولنگ کا عمل شروع کیا جائے گا۔

’بھائی نے ماں کو بھی فون کیا کہ کوئی مجھے آگ سے بچا لے‘

بی بی سی کے لیے صحافی ذیشان نواب سے بات کرتے ہوئے ہارون اور ان کے بھائی ہیری نے بتایا کہ ’اس عمارت کے اندر ان کے تین بھائی موجود تھے جن میں سے دو باہر نکل آئے مگر تیسرے بھائی کل سے لاپتا ہیں اور ابھی تک ان کے بارے میں کوئی خبر نہیں مل سکی۔‘

ہارون کے مطابق ’پلازے کے اندر سے ان کے بھائی نے اپنی دکان سے والدین کو فون کیا کہ مجھے بچا لو، انھوں نے اپنے دوستوں کو بھی فون کر کے بچانے کی اپیل کی مگر کوئی انھیں بچا نہ سکا۔‘

اس عمارت میں کراچی کے رہائشی محمد حسین کا بھتیجا محمد عارف برتنوں کی ایک دکان پر کام کرتا تھا۔ محمد حسین نے بتایا کہ ان کا فون صبح گیارہ بجے سے بند ہے۔ ان کے مطابق ’اگر امدادی کام وقت پر شروع ہو جاتا تو شاید اتنا نقصان نہ ہوتا اور قیمتی جانوں کو بھی بچایا جا سکتا۔‘

انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’تیسری بار صدر میں کسی عمارت کو آگ لگی ہے۔ کب تک یہ سب ایسے ہوتا رہے گا اور کب تک ایسے لاشیں اٹھتی رہیں گی؟‘

یہیں عمارت کے قریب ایک عام شہری قرت العین مدثر بھی موجود ہیں۔ انھوں نے صحافی ذیشان نواب سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ یہ دیکھنے یہاں آئی ہیں کہ ریسکیو کا کام کیسے ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں یہ دیکھ کر تسلی ہوئی کہ ’تمام ادارے اپنے طور پر بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور وہ کافی لوگوں کو اندر سے بحفاظت باہر نکال بھی چکے ہیں۔‘

عمارت کے باہر موجود جماعت اسلامی کے رہنما منعم ظفر نے کہا کہ ’یہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ عمارتوں کے ضابطے پر عملدرآمد کراتی تاکہ اس طرح تسلسل سے کراچی میں ایسے واقعات دیکھنے کو نہ ملتے۔‘

Getty Images
Getty Images
ہارون کے مطابق 'پلازے کے اندر سے ان کے بھائی نے اپنی دکان سے والدین کو فون کیا کہ مجھے بچا لو، انھوں نے اپنے دوستوں کو بھی فون کر کے بچانے کی اپیل کی مگر کوئی انھیں بچا نہ سکا۔'

’میری دکانیں میری آنکھوں کے سامنے جل رہی تھیں‘

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے زین نامی دکاندار نے بتایا کہ آگ سنیچر کی شب ساڑھے دس بجے گراؤنڈ فلور پر لگی اور اس وقت دکانداروں کے علاوہ سینکڑوں افراد پلازہ کے اندر موجود تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ دکانداروں نے اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کو پلازہ سے باہر نکلنے میں مدد کی۔

اُنھوں نے الزام لگایا کہ ریسکیو اہلکاروں نے اندر جانے کے بجائے باہر سے آگ بجھانے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے اندر موجود افراد کو بچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

’میری دکانیں، میری آنکھوں کے سامنے جلتی رہیں، ہم ان دکانوں سے سامان بھی نہیں نکال سکے۔ بہت سارے لوگ اب بھی اندر موجود ہیں، میرے کئی دوست ہیں جن سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا۔‘

تاہم سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید کہتی ہیں کہ ’سب اندازے ہی لگا رہے ہیں کہ لوگ اندر پھنسے ہیں۔ ریسکیو اہلکار اندر داخل نہیں ہوئے اور مارکیٹ کی انتظامیہ کو بھی مستند طور پر نہیں معلوم کہ اگر لوگ پھنسے ہیں تو کتنے ہیں۔‘

زین کے بقول اُن کی گل پلازہ میں بیگز کی تین دکانیں ہیں، جو جل کر خاکستر ہو گئی ہیں۔

سندھ حکومت کی ترجمان نے تصدیق کی کہ آتشزدگی کے باعث گُل پلازہ کے دو حصے زمین بوس ہو چکے ہیں۔

’اندر کیمیکلز اور پلاسٹک بھی موجود ہے جس کے باعث آگ بار بار بھڑک اُٹھتی ہے۔‘

گُل پلازہ کے سفیان نامی ایک اور دکاندار کہتے ہیں کہ اُن کی پلازہ کے گرنے والے حصے میں جیولری کی دکان تھی۔

سفیان کا کہنا تھا کہ اُن کے بہنوئی اور ایک سیلزمین آگ لگنے کے وقت دکان پر موجود تھے، جن کا تاحال کچھپتا نہیں چل سکا ہے۔

زین کے مطابق گل پلازہ کے 32 داخلی دروازے ہیں اور آگ لگنے کے بعد ریسکیو اہلکار کسی بھی راستے سے اندر جا کر آگ بجھانے کی کوشش کر سکتے تھے۔ لیکن ان کے پاس مطلوبہ سامان ہی نہیں تھا جس سے وہ اتنے بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ پر قابو پا سکتے۔

جائے حادثہ پر موجود ایک بزرگ شہری اپنی بھانجی، اُن کی تین بیٹیوں، نواسی اور بیٹے سے متعلق جاننے کے لیے پلازے کے باہر موجود تھے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ یہ لوگ شادی کی خریداری کے سلسلے میں کل گُل پلازہ آئے تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہماری اللہ سے دعا ہے کہ کوئی معجزہ دکھا دے اور اُن کی سانسیں باقی ہوں۔ سب خاندان والے پریشان ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں ’یہ ایک ہی خاندان کے چھ افراد ہے، جو اپنے گھر تالہ لگا کر آئے تھے، اب اس گھر کا تالہ کون کھولے گا، یہ اللہ ہی جانتا ہے۔‘

’کاسمیٹک، کمبل اور گارمنٹس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی‘

گل پلازہ کے سابق سیکریٹری جنرل عارف قادری نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی شب سوا دس بجے آگ لگی اور اس نے کچھ ہی لمحات میں گل پلازہ کی پانچوں گلیوں کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ آگ اتنی تیزی سے بھڑکی کہ لوگوں کو صرف اپنی جانیں بچانے کا موقع ملا اور وہ اپنی کوئی قیمتی چیز بھی نہیں اُٹھا سکے۔

’ہم نے کراچی میں بڑی بڑی آگ لگتی دیکھی ہیں لیکن یہ آگ کچھ الگ ہی قسم کی تھی۔ جب آگ لگی اس وقت 70 فیصد دکانیں کھلی تھیں کیونکہ سنیچر کو ویک اینڈ کی وجہ سے گاہگ بھی زیادہ ہوتے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ گراؤنڈ فلور سے تو لوگ باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے لیکن جب آگ اس سے اُوپر والی منزل پر پہنچی تو وہاں موجود دکاندار اور گاہگ وقت پر وہاں سے نہیں نکل سکے اور وہیں اموات ہوئی ہیں۔

کیا پلازے میں فائر ایگزٹ کے مناسب انتظامات تھے؟ اس سوال کے جواب میں عارف قادری کا کہنا تھا کہ گراؤنڈ فلور پر 13 داخلی دروازے تھے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ یہاں سے فوری طور پر باہر نکل گئے۔

اُن کے بقول اسی طرح ہر فلور پر آگ بجھانے والے سلنڈر موجود تھے اور دکانداروں نے ان کے ذریعے آگ بجھانے کی کوشش بھی کی لیکن آگ اتنی شدید تھی کہ یہ کام نہیں آ سکے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کاسمیٹک، کمبل اور گارمنٹس کی دکانوں کی وجہ سے آگ نے تیزی سے پلازے کو اپنی لپیٹ میں لیا۔

’جائے حادثہ کے قریب تعمیراتی کام کی وجہ سے ریسکیو گاڑیوں کو پہنچنے میں مشکل ہوئی‘

دوسری جانب سندھ میں ریسکیو 1122 کے حکام آگ بھجانے میں مشکلات کا سبب علاقے میں جاری ترقیاتی کام بتاتے ہیں۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان الحسیب نے بتایا کہ جائے حادثہ کے قریب بی آر ٹی منصوبے کی وجہ سے کھدائی اور سڑک تنگ ہونے سے ریسکیو گاڑیوں کو گُل پلازہ تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’ایک تو سڑک تنگ تھی اور دوسری طرف لوگوں کی بڑی تعداد صرف تماشا دیکھنے کے لیے موجود تھی، جس کی وجہ سے پوری سڑک بلاک ہو کر رہ گئی تھی اور واٹر براؤرز کو وہاں راستہ ملنے میں دُشواری ہوئی۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ دوسرا چیلنج یہ تھا کہ عمارت میں داخلے اور باہر نکلنے کے راستوں کا درست تعین نہیں کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ہمیں زبردستی ایک اور راستہ بنانا پڑا۔

حسان الحسیب کے بقول تیسرا چیلنج یہ تھا کہ دکاندار جائے حادثہ سے دُور ہی نہیں جا رہے تھے کیونکہ اُن کی کوشش تھی کہ وہ اپنا سامان بچا لیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ گل پلازے کا ایک حصہ گرنے سے کے ایم سی کے ایک فائر فائتر کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ ایک فائر فائتر زخمی ہوا ہے۔

حسان الحسیب کے بقول اگ پر 60 فیصد قابو پا لیا گیا ہے لیکن وقفے وقفے سے عمارت کے کچھ حصوں میں یہ دوبارہ بھڑک رہی ہے۔

’عمارت برُح طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ ابھی عمارت کا پچھلا حصہ گرا ہے، لیکن اگلا حصہ بھی کسی بھی وقت گر سکتا ہے۔‘

اتوار کی صبح صوبائی وزیر سعید غنی نے بھی گُل پلازہ کا دورہ کیا اور اس دوران میڈیا سے بات کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ’جو عمارتیں بناتے ہیں، جو ان میں رہتے ہیں یا کاروبار کرتے ہیں ایسے واقعات میں سب سے زیادہ نقصان ان ہی کا ہوتا ہے۔‘

’عمارتیں بناتے وقت حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائے جانے کی ضرورت ہے، کہیں نہ کہیں کوتاہیاں ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں نقصان ہوتا ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US