سانحہ گل پلازا کیس کی سماعت کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی عاصم اسلم کی عدالت میں چار عینی شاہدین نے اپنے بیانات قلمبند کرا دیے۔ عینی شاہدین میں تین سیلز مین اور ایک 13 سالہ طالبعلم شامل ہے۔
عدالت کے روبرو سماعت کے دوران 13 سالہ آریان نے بیان دیتے ہوئے بتایا کہ 17 جنوری کو وہ اپنے دوست حذیفہ کو گڈ بائے کہنے اس کے والد کی دکان پر گیا، جہاں حذیفہ ماچس سے کھیل رہا تھا۔ آریان کے مطابق حذیفہ کے پاس ماچس کے دو ڈبے تھے اور وہ دکان پر اکیلا موجود تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ شام ساڑھے 5 بجے وہاں پہنچا اور ساڑھے 8 بجے تک وہیں رہا بعد ازاں اپنے والد کی دکان پر چلا گیا۔
آریان نے مزید کہا کہ رات تقریباً 10 بجے جب وہ دوبارہ حذیفہ کو گڈ بائے کہنے گیا تو وہ ایک بار پھر ماچس سے کھیل رہا تھا اسی دوران آگ بھڑک اٹھی۔ اس نے بتایا کہ حذیفہ اس سے پہلے بھی ماچس سے کھیل چکا تھا اور دکان داروں نے اسے منع بھی کیا تھا تاہم آگ تیزی سے پھیل گئی۔ آریان کے مطابق آگ لگنے کے نتیجے میں صمد نامی بچہ جاں بحق ہوگیا۔
ایک اور عینی شاہد طلحہ نے بیان میں کہا کہ 17 جنوری کو وہ اپنی دکان پر موجود تھا کہ اچانک فلاور کی دکان میں آگ لگ گئی۔ ابتدا میں آگ بجھانے کی کوشش کی گئی مگر شدت زیادہ ہونے پر سب نے اپنی جان بچانے کو ترجیح دی اور وہاں سے نکل گئے۔
وحید نے عدالت کو بتایا کہ اسی روز وہ اپنی دکان کے پیچھے بیٹھا تھا کہ بچوں کے لڑنے کی آوازیں آئیں، اسی دوران آگ لگنے کی اطلاع ملی۔ اس نے بتایا کہ آگ بھڑکنے کے بعد دکان سے فلاور ہٹانے کی کوشش کی گئی مگر نٹس فلاور کے ساتھ جڑے ہونے کے باعث آگ مزید پھیل گئی اور پورا علاقہ دھوئیں سے بھر گیا، جس پر کمیٹی کے لوگ پہنچ گئے اور وہ پیچھے ہٹ گیا۔
چوتھے عینی شاہد حمزہ نے بیان میں کہا کہ وہ دکان پر حساب کتاب میں مصروف تھا کہ دکان نمبر 193 میں آگ لگ گئی۔ اس کے مطابق آگ اتنی شدید تھی کہ پانی ڈالنے کے باوجود قابو میں نہ آ سکی، جس پر وہ دیگر افراد کے ساتھ جان بچا کر باہر نکل آیا۔
عدالت نے تمام گواہان کے بیانات کو کیس کے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا اور مزید سماعت ملتوی کر دی۔