اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا ظاہر کرنے سے متعلق پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) کے احکامات معطل کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مالیاتی راز داری، معلومات تک رسائی کے حق پر فوقیت رکھتی ہے۔
عدالت نے کہا کہ حق معلومات ایکٹ کے تحت بھی ٹیکس ریکارڈ ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ حکم فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے دائر درخواست پر جاری کیا گیا، جس میں پی آئی سی کے ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا فراہم کرنے کے آرڈرز کو چیلنج کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے پی آئی سی کے فیصلے پر عملدرآمد روک دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ٹیکس دہندگان کی مالی معلومات کو تحفظ حاصل ہے اور ان کی افشاکاری قانون کے خلاف ہے۔
ایف بی آر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 216 کے تحت ٹیکس دہندگان کی معلومات ظاہر کرنے پر مکمل قانونی پابندی عائد ہے اور یہ شق دیگر تمام قوانین پر بالاتر حیثیت رکھتی ہے۔
وکیل نے مزید بتایا کہ ٹیکس دہندگان کی شناخت ظاہر کرنا بھی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، جس کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پی آئی سی کے احکامات معطل کرتے ہوئے مزید سماعت تک حکم امتناع برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔