سندھ ہائی کورٹ میں سانحہ گل پلازہ کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کے دوران چیف فائر افسر نے عدالت میں تحریری جواب جمع کروا دیا۔
چیف فائر افسر نے کہا کہ فائر سیفٹی قوانین پر عمل درآمد کرانا فائر بریگیڈ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا تاہم گل پلازہ میں آتشزدگی کے دوران فائر بریگیڈ نے بھرپور اور جانفشانی کے ساتھ آپریشن میں حصہ لیا جس دوران ایک اہلکار فرقان شہید بھی ہوا۔
چیف فائر افسر نے بتایا کہ 2021 میں گل پلازہ میں ایس او پیز کے مطابق فائر سیفٹی سروے کیا گیا اور مشاہدات و خامیوں سے گل پلازہ انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا۔ اسی دوران 22-2021 میں آئی آئی چندریگر، شارع قائدین اور شارع فیصل پر بھی عمارتوں میں فائر سیفٹی سروے کیے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کی نگرانی میں فائر سیفٹی آڈٹ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو فائر بریگیڈ سمیت دیگر محکموں کے ساتھ مل کر شاپنگ مالز اور کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی آڈٹ کر رہی ہیں۔
چیف فائر افسر کے مطابق گل پلازہ کی آتشزدگی کی اطلاع 10 بجکر 26 منٹ پر موصول ہوئی اور پہلا فائر ٹینڈر ایک منٹ بعد روانہ کیا گیا۔