وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیپرا کی جانب سے سولر توانائی کے حوالے سے جاری نئے ریگولیشنز کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ موجودہ سولر صارفین کے کنٹریکٹس کا ہر ممکن تحفظ یقینی بنایا جائے۔
وزیراعظم نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ نیپرا سے رابطہ کر کے فوری طور پر نظرِ ثانی کی اپیل دائر کرے تاکہ سولر سے مستفید ہونے والے 4 لاکھ 66 ہزار صارفین کا بوجھ صرف نیشنل گرڈ سے بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر نہ پڑے۔ اس ضمن میں پاور ڈویژن کو جامع لائحہ عمل تیار کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔
اس سلسلے میں آج اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، سردار اویس خان لغاری، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، مشیر نجکاری محمد علی اور دیگر حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں سولر ریگولیشنز کے اثرات، موجودہ صارفین کے حقوق کے تحفظ اور نیشنل گرڈ پر بوجھ کو کم کرنے کے اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔