وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے صوبائی اسمبلی میں کہا ہے کہ کسی کو بندوق اٹھا کر قتل و غارت کرنے کا حق نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ 30 سال سے ریاست کے خلاف منظم پروپیگنڈا کیا گیا اور دہشتگردی کو محرومی یا غیرمتوازن ترقی سے جوڑنا درست نہیں۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشتگرد بلوچ بیانیہ بنا کر ملک کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں اور خوارج کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، یہ صرف مذہب کا نام استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے صوبے میں جاری دہشتگردی کے خلاف اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت بلوچستان نے 39 انتہائی مطلوب دہشتگردوں کی فہرست جاری کی ہے، جس میں حیربیار، براہمداغ، بشیرزیب اور دیگر شامل ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ فساد اور انتشار کو ختم کریں، مختلف مسائل پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن دہشتگردی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست بات چیت کے لیے تیار ہے، مگر بندوق کی نوک پر نہیں۔