احتجاجی مظاہروں، سکیورٹی کارروائیوں اور ایک شہری کی ہلاکت کے بعد مظفرآباد اور اس کے گردونواح میں کشیدگی برقرار ہے، جبکہ حکام اور مظاہرین کے درمیان صورتحال کے مزید واضح ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں سنیچر کے روز مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال دیکھنے میں آئی، جہاں بازار، دکانیں، بینک اور پٹرول پمپ بند رہے جبکہ شہر کی سڑکیں سنسان دکھائی دیں۔ ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ بھی معطل رہی اور شہر کے مختلف مقامات پر ایف سی اور مقامی پولیس کے اہلکار تعینات رہے۔
مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق مظاہرین نے اندرونِ شہر متعدد سڑکوں کو پتھروں اور دیگر رکاوٹوں کے ذریعے بند کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وادی نیلم کو جانے والی مرکزی شاہراہ بھی مظفرآباد سے تقریباً 20 کلومیٹر دور پٹھیکہ کے مقام پر مظاہرین کی جانب سے بند کر دی گئی ہے۔
یہ صورتحال جمعے کے روز نمازِ جمعہ کے بعد شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے تسلسل میں سامنے آئی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق نوجوانوں کے مختلف گروپ اچانک سڑکوں پر نکل آئے اور شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاج کرتے ہوئے مرکزی اور اندرونی شاہراہوں کو بند کر دیا۔
مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی گئی۔ اس دوران ایک مقامی شہری، معید راٹھور، ہلاک ہو گئے۔ معید راٹھور ’آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی‘ میں ملازم تھے۔
معید راٹھور کے لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ انھیں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے دوران گولی لگی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔ تاہم حکام کی جانب سے اس الزام پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
مقامی پولیس کے مطابق جمعے کی شب پلیٹ کے مقام پر نمازِ جنازہ کے بعد مظاہرین نے مظفرآباد کے نواحی علاقے چہلہ بانڈی میں دھرنا دیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ رات گئے سکیورٹی فورسز نے دھرنا منتشر کر دیا، تاہم سنیچر کی صبح ایک بار پھر مظاہرین اسی مقام پر جمع ہونا شروع ہو گئے۔
دوسری جانب مظفرآباد میں احتجاجی مظاہروں کے آغاز کے ساتھ ہی انٹرنیٹ سروس بھی دوبارہ معطل کر دی گئی ہے۔ یہ سروس تقریباً 55 روز بعد بحال کی گئی تھی، تاہم بحالی کے صرف ایک روز بعد ہی اسے دوبارہ بند کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں 9 جون کو بھمبر سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کی کال دے رکھی تھی۔ تاہم اس سے قبل 5 جون کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
مظفر آباد میں کالعدم تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامی مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں معید راٹھور کی ہلاکت کے علاوہ پولیس کے مطابق اس کے دو اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والا شخص راہگیر تھا۔ تاہم عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن سردار تنویر کا دعویٰ ہے کہ وہ تنظیم کا رکن تھا جو فائرنگ سے ہلاک ہوا اور پولیس کی شیلنگ کے نتیجے میں تنظیم کے تین کارکن زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری طرف پولیس نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ مظفرآباد میں ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن پر اس کے بقول ’شرپسند عناصر‘ نے حملہ کیا تھا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے میرپور کے بعد مظفر آباد میں بھی الیکشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے مگر پولیس نے ’بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پا لیا۔‘
مظفر آباد کے ڈپٹی کمشنر منیر احمد کا کہنا تھا کہ اس وقت شہر میں امن و امان کی صورت حال کنٹرول میں ہے۔
مظفرآباد میں کیا ہوا؟
جمعے کے روز مظفر آباد کے علاقے لوئر پلیٹ، چہلہ بانڈی اور اپر اڈہ سمیت مظفر آباد کے کئی علاقوں میں احتجاج کیا گیا جس کے دوران راولاکوٹ میں پولیس کی کارروائی کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی۔
مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق مظفرآباد لوئر پلیٹ میں حالات کشیدہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لوئر پلیٹ، چہلہ بانڈی اور اپر اڈہ میں کئی لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ دکانیں بند، سیاسی جماعتوں کے پوسٹرز اتار کر آگ لگائی گئی۔ مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔‘
مظفر آباد کے مقامی افراد اور عینی شاہدین کے بقول آنسو گیس کے کچھ گولے گھروں میں بھی گرے۔
عینی شاہدین کے مطابق مظفر آباد میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامی کارکنان کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کے دوران مرکزی شاہراہ نیلم روڈ بھی کچھ دیر کے لیے بند کی گئی۔
دریں اثنا میرپور میں انٹرنیٹ سروس معطل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جمعرات کی رات سے ہی انٹرنیٹ بند ہے جس میں لینڈ لائن اور وائی فائی دونوں شامل ہیں۔
میرپور ڈویژن میں قانون ساز اسمبلی کے الیکشن کے پہلے مرحلے میں 26 جولائی کو انٹرنیٹ سروس بحال کی گئی تھی۔ الیکشن کا دوسرا مرحلہ مظفر آباد ڈویژن میں دو اگست کو شروع ہو گا۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی جمعے کو راولاکوٹ میں مظاہرین کے حق میں احتجاج ہوئے ہیں۔ کراچی میں پریس کلب کے باہر احتجاج سے قبل راستوں کی بندش کی گئی جبکہ لاہور میں پروگریسیو سٹوڈنٹ کولیکٹیو (پی ایس سی) کا کہنا ہے کہ کشمیر کی صورتحال پر احتجاج کرنے پر اس کے کارکنان کو پولیس کی جانب سے حراست میں لیا گیا ہے۔ تاحال لاہور پولیس نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
دریں اثنا جمعے کے روز پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ ہے کہ انڈیا نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے اندر ’آگ لگانے کی کوشش کی‘ اور اس حوالے سے ’باریک واردات کی گئی۔‘
انڈیا کی جانب سے اس حالیہ الزام پر تبصرہ نہیں کیا گیا تاہم گذشتہ دنوں نئی دہلی نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری احتجاج ’دراصل وہاں کے عوام کے معاشی استحصال، بنیادی حقوق سے محرومی اور انتظامی جبر کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے ان سے یہ سوال پوچھا کہ گذشتہ کئی ہفتوں سے کشمیر بحران کا شکار ہے، کالعدم ایکشن کمیٹی کا مظاہرہ جاری ہے، بات چیت کے ذریعے معاملے کو حل کرنے کی کوشش بھی ہوئی اور جب مظاہرین نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو ’گولی بھی چلی، کئی جانیں گئیں۔‘ انھوں نے پوچھا کہ ’ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ مسئلہ مزید گمبھیر ہوتا جا رہا ہے‘ تو اس کا حل کیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کشمیر پر کیا گیا سوال بہت اہم ہے۔
انھوں نے کشمیر کی صورتحال کے بارے میں سیاق و سباق دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے کے اٹوٹ انگ ہیں۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا۔‘
انھوں نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ بدامنی کے واقعات کا الزام انڈیا پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ کئی حربے استعمال کر رہے ہیں۔۔۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ یہاں (انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں) تو ہم نہ انھیں ڈرا سکے، نہ دھمکا سکے۔ انھوں نے سوچا ہم یہی کام پاکستان میں کر کے دکھاتے ہیں۔‘
خیال رہے کہ چند روز قبل انڈیا کے دفترِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں ہونے والے انتخابات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں موجودہ انتخابی عمل محض ایک نمائشی مشق ہے، جس کا مقصد پاکستان کے غیر قانونی قبضے اور خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔‘
نئی دہلی نے دعویٰ کیا تھا کہ ’پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جاری عوامی احتجاج، جن کی تازہ تصاویر بھی سامنے آ چکی ہیں، دراصل وہاں کے عوام کے معاشی استحصال، بنیادی حقوق سے محرومی اور انتظامی جبر کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔‘
تاہم لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا دعویٰ ہے کہ انڈیا نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے اندر ’آگ لگانے کی کوشش کی۔ ان کے جزو جے کے ایل ایف (جموں کشمیر لبریشن فرنٹ) کے طور پر موجود ہیں۔۔۔ اس بار واردات تھوڑی باریک ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس مہم کے پیچھے ’حقوق کا لبادہ رکھا گیا‘ اور حقوق کے معاملے پر ’گیم چلائی گئی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر حقوق، حقائق اور وسائل پر بات کی جائے تو پاکستان کا سب سے لاڈلا بچہ کشمیر ہے۔‘
’ریاست (پاکستان) کو اس وقت بھی اندازہ تھا کہ ان (جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی) کے پیچھے یہ چیزیں ہیں، یہ خود ایکسپوز ہوں گے۔‘
ان کا مزید دعویٰ تھا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا اصل ایجنڈا ’یہ ہے کہ وہاں سے آئے کشمیریوں کی نمائندگی نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ ریاست نے فراخ دلی کا مظاہرہ کر کے کہا آپ الیکشن میں آئیں، اکثریت حاصل کریں اور آئینی و قانونی طریقے سے جو کرنا چاہتے ہیں وہ کریں۔۔۔ لیکن وہ یہ ڈنڈے کے زور پر کرنا چاہتے ہیں۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر تشدد کا حق ہر ہجوم کو دے دیا گیا تو ہر کوئی اپنے مطالبات کے ساتھ سامنے آجائے گا۔
انھوں نے کہا کہ کشمیر میں مظاہرین کا ’12 سیٹوں پر ایجنڈا واضح ہو چکا ہے‘ لیکن ان سے نمٹنے میں ریاستِ پاکستان نے ’تحمل کا مظاہرہ کیا۔‘
اپنے جواب میں انھوں نے 28 جولائی کو ایکشن کمیٹی کے ایک رکن کی جانب سے کی گئی ٹویٹ کا حوالہ دیا جس میں ان کے بقول یہ کہا گیا تھا کہ ’سردار ابراہیم اور سردار قیوم جیسے لوگوں کی سزا آج ہم سب بھگت رہے ہیں۔ ان غداروں نے قبائلیوں کے ساتھ مل کر اپنی ہی ریاست تقسیم کروائی۔‘
سردار ابراہیم اور سردار قیوم 1947 میں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے لڑنے والے رہنما تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مظاہرے کے دوران رہنماؤں کی جانب سے کی گئی بعض تقریروں کا بھی حوالہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ ایک تقریر میں پاکستانی فوج کو ’قابض فوج‘ کہا گیا جبکہ ان کے بقول درحقیقت پاکستانی فوج میں ’ایک لاکھ کشمیری ہیں۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ مظاہرین کی ہلاکتوں سے متعلق سوشل میڈیا پر جعلی معلومات کی مہم چلائی جا رہی ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ اس معاملے سے ’فوج کا تعلق نہیں ہے‘ بلکہ کشمیر کی پولیس اِن مظاہرین کا مقابلہ کر رہی ہے کیونکہ وہ بھی ’ان کی اصلیت جانتے ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین پُرتشدد سرگرمیوں کے ذریعے الیکشن رکوانا چاہتے تھے مگر ’انتخابی عمل جاری ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جس نے ظلم کیا، کسی کو قتل کیا اسے اس کا جواب دینا پڑے گا۔ ہمیں آئین اور قانون کی پیروی کرنا ہو گی۔‘