وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس احمد لغاری نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ ملک بھر کے 12 ہزار 665 فیڈرز میں سے 2 ہزار سے زائد فیڈرز پر 10 گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔
قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران تحریری جواب میں بتایا گیا کہ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے 814 میں سے 604 فیڈرز پر 10 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ سیپکو کے 707 میں سے 407، ٹیسکو کے 357 میں سے 174 جبکہ پیسکو کے 1376 میں سے 642 فیڈرز پر 10 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ جاری ہے۔
اسی طرح حیسکو کے 747 میں سے 322 اور ہزارہ الیکٹرک کمپنی کے 286 میں سے 37 فیڈرز پر بھی 10 گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ تاہم لیسکو، آئیسکو، گیپکو اور فیسکو کے کسی فیڈر پر 10 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی۔
ایوان کو بتایا گیا کہ جولائی سے دسمبر 2025ء کے دوران بجلی صارفین نے 8 ارب 78 کروڑ 7 لاکھ 111 یونٹس بجلی استعمال کی۔ ملک کی 11 تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین کی مجموعی تعداد 3 کروڑ 92 لاکھ 20 ہزار 38 ہے۔
ملک بھر میں پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد 2 کروڑ 15 لاکھ 50 ہزار تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اکتوبر 2021ء میں یہ تعداد 95 لاکھ تھی۔ دسمبر 2025ء تک نیٹ میٹرنگ کی استعداد 7 ہزار میگاواٹ اور آف گرڈ سولر کی استعداد 12.62 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔
تحریری جواب میں مزید بتایا گیا کہ گزشتہ دو سال میں بجلی کے ترسیلی نقصانات 600 ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں۔ مالی سال 2024-25ء میں ترسیلی نقصانات 284 ارب روپے جبکہ مالی سال 2023-24ء میں 322 ارب روپے رہے۔
کمپنیوں کے لحاظ سے پیسکو کے ترسیلی نقصانات 96 ارب روپے تک پہنچ گئے، کیسکو کے 51 ارب، لیسکو کے 46 ارب، سیپکو کے 37 ارب اور حیسکو کے نقصانات 22 ارب روپے ریکارڈ کیے گئے۔