وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان جس ڈاکٹر سے بھی اپنی آنکھوں کا معائنہ کرانا چاہیں، حکومت انہیں مکمل سہولت فراہم کرے گی۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے طبی رپورٹ میں یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ شکایت کے باوجود علاج نہیں کرایا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت عدالتی احکامات اور طبی ضروریات کے مطابق ہر ممکن سہولت دینے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ عمران خان کی آنکھ میں تکلیف کے باوجود جیل حکام نے بروقت توجہ نہیں دی اور کہا کہ اگر طبی شکایت پر فوری کارروائی نہ کی گئی تو یہ مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔
یاد رہے کہ اڈیالا جیل میں قید عمران خان سے متعلق سہولیات کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد تک محدود ہو چکی ہے جس کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔
بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے کی ضرورت پڑی تو حکومت کرے گی، طارق فضل چودھری
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ اگر بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے کی ضرورت پیش آئی تو حکومت اس اقدام پر ضرور غور کرے گی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی بیماری سے متعلق یہ دوسری میڈیکل رپورٹ ہے اور پمز اسپتال کی رپورٹ کے مطابق علاج کے بعد ان کی آنکھ کی حالت بہتر ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وکیل سلمان صفدر کی رپورٹ طبی نوعیت کی نہیں اس لیے میڈیکل معاملات پر مستند رائے صرف ڈاکٹروں کی ہوگی۔
ڈاکٹر طارق فضل چودھری کے مطابق اکتوبر کے بعد بانی پی ٹی آئی کو آنکھوں میں مسلسل دھندلاہٹ کی شکایت رہی جس کے بعد ان کی دائیں آنکھ کی بینائی اچانک متاثر ہوگئی۔